حمدیہ قصیدہ زوروں پر ہے چشمہء نور اپنا ظرف، اپنا مقدور! شمسِ حقیقت کے ہوتے سارے وہم و گُماں کافور ایک ہَوا کی آہٹ پر ناچ اُٹھا شہرِ مَزمور! کسی خیال کی لذّت میں رہتا ہے غم بھی مَسرور ایک خَلا کی نسبت سے دل ہے خَلوت سے مَعمور جیسے ہے ہر چیز، یہاں اپنے نشّے میں مَخمور سو بھی کم کم کُھلتا ہوں حسبِ استعدادِ ظُہور خود سے چھپتا پھرتا ہوں اپنے اندر اک مَفرور! پردے کا ہے سارا کھیل ورنہ ، میں کیا! کون حضور! اِک دریا کی…
Read MoreTag: ْQazi Habib ur Rehman
قاضی حبیب الرحمٰن
عجب زمانوں کا درپیش ہے سفر کوئی کہ تھک کے بیٹھ گئی راہ میں تمنا بھی
Read More