تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کرو گے میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو مگر کچھ اپنے لئے بھی سوچا میں یاد آیا تو کیا کرو گے کچھ اپنے دل پہ بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ لیکن تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا…
Read MoreDay: نومبر 19، 2022
سید آل احمد ۔۔۔ خزاں میں غم ذرا کچھ کم کیا کر
خزاں میں غم ذرا کچھ کم کیا کر بہاروں میں بھی آنکھیں نم کیا کر دلوں میں قید کر رکھا ہے جن کو وہ باتیں بھی کبھی باہم کیا کر تمنا ہے کہ زہری چپ کے گیسو لبوں کے دوش پر برہم کیا کر ہر آنگن میں سحر کب بولتی ہے سکوتِ شام کا دُکھ کم کیا کر تعلق خواب ہے قدرت نہیں ہے شکستِ دل کا مت ماتم کیا کر کہیں بہتر ہے جابر سے بغاوت سرِ تسلیم یوں نہ خم کیا کر حرارت ڈھونڈ مت مہتابِ جاں میں…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نے
نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نے کچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تم نے اس کرم کو مری مایوس نظر سے پوچھو ساقی بیٹھا رہا اور اٹھ کے پلا دی تم نے مجھ پہ احساں نہ رکھو جان بچا لینے کا مرنے دیتے مجھے کاہے کو دعا دی تم نے یہ کہو پیشِ خدا حشر میں منثا کیا تھا میں کوئی دور کھڑا تھا جو صدا دی تم نے ان کے آتے ہی مزہ جب ہے مرا دم نکلے وہ یہ کہتے ہوئے رہ جائیں…
Read Moreمحسن اسرار ۔۔۔ ذرا بھی میں کہیں چوکا تو ٹوٹ جاؤں گا
ذرا بھی میں کہیں چوکا تو ٹوٹ جاؤں گا اسے جو دوسرا سمجھا تو ٹوٹ جاؤں گا مجھے عجیب سی مہلت نے تھام رکھا ہے اب ایک لمحہ بھی گزرا تو ٹوٹ جاؤں گا مجھے یقیں نہ دلا بازیافت ہونے کا اگر یقیں نہیں آیا تو ٹوٹ جاؤں گا میں ایک واہمے کی انتہا پہ بیٹھا ہوں جو میں نے پہلو بھی بدلا تو ٹوٹ جاؤں گا اُداسیاں مرے اعصاب پر مسلط ہیں کسی نے قہقہہ مارا تو ٹوٹ جاؤں گا اب انتظار سے آگے نکل گیا ہے وجود کوئی…
Read Moreعمران خان کا 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کا اعلان
لانگ مارچ کے شرکا سے ویڈیو خطاب کے دوران عمران خان نے ’’حقیقی آزادی‘‘ مارچ کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تحریک نہیں رکے گی، 26 نومبر کو شفاف انتخابات کا مطالبہ کریں، ساری قوم مل کر ہمارے ساتھ جدوجہد کرے، سب سے اگلے ہفتے پنڈی میں ملاقات ہوگی۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ہماری اپنی اسٹیبلشمنٹ نے ان کو کرپٹ کہا ہے، میرا سوال ہے کہ ایک دم یہی لوگ کیسے اسٹیبلشمنٹ کے لیے ٹھیک ہو گئے، مان لیتے ہیں اسٹیبلشمنٹ نے سازش نہیں کی…
Read Moreاقبال ساجد
پتہ کیسے چلے دنیا کو قصرِ دل کے جلنے کا دھوئیں کو راستہ ملتا نہیں باہر نکلنے اک
Read More