غزل اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کی جی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی لہجے کی تیز دھار سے زخمی کیا اسے پیوست دل میں لفظ کی سنگین ہم نے کی لائے بروئے کار نہ حسن و جمال کو موقع تھا پھر بھی رات نہ رنگین ہم نے کی جی بھر کے دل کی موت پہ رونے دیا اسے پرسا دیا نہ صبر کی تلقین ہم نے کی دریا کی سیر کرنے اکیلے چلے گئے شامِ شفق کی آپ ہی تحسین ہم نے…
Read MoreTag: اقبال ساجد
اقبال ساجد
پتہ کیسے چلے دنیا کو قصرِ دل کے جلنے کا دھوئیں کو راستہ ملتا نہیں باہر نکلنے اک
Read More