روٹھے ہوئے بھی چھیڑ کے سنتے ہیں میرے شعر میرے کلام میں ہے مزا بول چال کا
Read MoreDay: جنوری 30، 2023
محمد مختار علی
لفظ جب اپنے معانی کی سند مانگتے ہیں ہم ترے حسنِ تخیل سے مدد مانگتے ہیں
Read Moreسلطان سکون
کہاں کی شاعری، یہ شاعری نہیں ہے سکون دکھوں کو اپنے ہنر سے اِدھر اُدھر کیا ہے
Read Moreجون ایلیا
میری ہر بات بے اثر ہی رہی نَقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
Read Moreپیرزادہ قاسم ۔۔۔ ﺳﻔﺮ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ
ﺳﻔﺮ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ﺳﻔﺎﻝِ ﺟﺎﮞ ﮐﻮ ﮐﻒِ ﮐﻮﺯﮦ ﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ﮨﻤﯿﮟ ﺧﺒﺮ ﮨﮯ، ﮐِﺴﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﺨَﻦ ﮔﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺻﻒِ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧِﯿﺮﮦ ﺳﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺍﺯ ﮈﮬﻮﻧﮉﮮ ﮔﯽ ﺑﻼ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﺩﺍ ﮨﻮ ﺳﺮ ﻣﯿﮟ‘ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ﯾﮧ ﺑﺮﮒ ﻭ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺟﺎﺅ ﭼﻮﺏِ ﺟﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﻧﻤﻮ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺭﻣﻖ ﺗﻮ ﺷﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ﺍﺳﯿﺮ ﮐﺐ ﯾﮧ ﻗﻔﺲ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﮐﮯ ﺍُﮌﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺟﻮ ﺣﺴﺮﺕِ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ
Read Moreامیر مینائی کا صنم خانہ عشق ۔۔۔ امین جالندھری
”صنم خانہ عشق“ معروف شاعر حضرت امیر احمد امیر مینائی کا مجموعہ غزلیات ہے، جسے معروف شاعر پروفیسر عتیق احمد جیلانی نے کمال محنت اور محبت سے مرتب کیا ہے۔ مرتب صنم خانہ عشق پروفیسر ڈاکٹر عتیق احمد جیلانی نے زیرِ نظر نسخہ میں جدید اصول املا، رموز اوقاف اور صحتِ متن کے لئے خاصی محنت اور جدوجہد کی ہے۔ حضرت امیر مینائی سے متعلق تمام علمی کاوشوں کا مقصد وحید بھی یہی ہے کہ انیسویں صدی کے اس ”نابغہ عصر“ کی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔ صنم خانہ عشق…
Read Moreاکیسویں صدی کے افسا نے میں تغیر پذیر سماجی اقدار ۔۔۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
بدلتے زمانے کے ساتھ ساتھ ہر شئے تغیر پذیر ہوتی جاتی ہے۔ ادب سماج کا عکاس ہو تا ہے لہٰذا سماج کی تبدیلی کے اثرات تو ادبی تخلیقات میں دکھائی دیتے ہیں۔ سماج در اصل انسانی گروہ کے اعمال و افعال کا آئینہ ہو تا ہے۔ سماج کی اپنی راہیں ہوتی ہیں۔ صحیح و غلط کے پیمانے ہوتے ہیں۔ اچھی باتیں اور اچھے کام سماج میں سکون، اطمینان، خوش حالی اور امن و امان کے قیام کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے بر عکس غلط باتیں اور غلط کام سماج…
Read Moreسلطان جمیل نسیم کا ’ایک ہی مٹی کے لوگ‘ ـ جاوید اختر بھٹی
سلطان جمیل نسیم معروف افسانہ نگار ہیں۔ ان کے افسانوں کا چھٹا مجموعہ ”ایک ہی مٹی کے لوگ“ میرے سامنے ہے۔ ان کی کہانیاں ہمارے معاشرے کے گرد گھومتی ہیں۔ ان چودہ افسانوں میں ہمارے عہد کے لوگ ہیں۔ ایک ہی مٹی میں پیدا ہونے والے اور ایک ہی مٹی میں خاک ہونے والے۔ نسیم لکھتے ہیں: ”ہم انسان کو کتنا جان سکتے ہیں۔ کون دعویٰ کرسکتا ہے۔ انسانی زندگی میں اچانک ظاہر ہونے والا کوئی ایک رویہ اس فرد کی گزشتہ ساری زندگی کے روز و شب کے حوالے…
Read Moreکرشن کمار طور کا گل گفتار … پروفیسر قیصر نجفی
غزل کو اردو شاعری کی آبرو بننے میں کتنا عرصہ لگا، یہ جاننے کے لئے سو پچاس سال کی نہیں صدیوں کی تقویم درکار ہے۔ کون جانتا تھا کہ عربی قصیدہ کی پیش گاہ، ایک روز جلوہ گاہ غزل کہلائے گی، اور پھر غزل ایک روز فارسی ادب کے دوش پر سوار برصغیر ہندو پاک میں وارد ہوگی اور یہاں کے اکثر باشندوں کے دل و دماغ دونوں کو مسخر کرلے گی۔ گزشتہ دنوں ہندوستان کے ایک قریہ¿ شاداب دھرم شالہ سے غزل کی خوشبو میں ڈوبا ہوا ہوا کا…
Read Moreنعت نامے پر ایک نظر … پروفیسر انوار احمد زئی
ارتقائے ادب میں ادبی مجلّوں کے مدیروں کے نام لکھے جانے والے خطوط نے ہمیشہ سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سید سلیمان ندوی اور علامہ اقبال کے درمیان ہونے والی مراسلت نے زبان و بیان سے لے کر شعری اور ادبی موضوعات کے تعین تک میں قابل ذکر مدد دی۔ اسی طرح نگار، ساقی، افکار، نقوش اور فنون جیسے رسائل کے مدیران کے نام جو خطوط آئے ان کا اب حوالہ ادبی جہات اور مکاتیب فکر کے درمیان فکری امتیاز و اختلاف کے ساتھ تحاریک ادب کے مابین مثبت…
Read More