ریاض ندیم نیازی ۔۔۔ اب نہیں مجھ میں چاہتیں باقی

اب نہیں مجھ میں چاہتیں باقی
رہ گئیں تیری عادتیں باقی

بٹ گیا دل تو کرچیوں میں، پر
ہیں سبھی میں شباہتیں باقی

دیکھ بے نور ہو گئیں آنکھیں
ہیں مگر اِن میں حسرتیں باقی

پھول کلیوں میں اِس چمن کے اب
رنگتیں ہیں نہ نکہتیں باقی

میرے خوابوں میں اور کچھ بھی نہیں
یار کی ہیں شباہتیں باقی

کر چکا ہوں وضاحتیں ساری
پھر بھی ہیں کچھ وضاحتیں باقی

لذّتِ عشق کھو گئی لیکن
رہ گئی ہیں اذیتیں باقی

ایک مدّت سے چل رہا ہوں ندیمؔ
’’اور ہیں کتنی منزلیں باقی‘‘

Related posts

Leave a Comment