ضیاالدین نعیم ۔۔۔ تابِ غم ایک گھڑی بھی نہیں لائیں آنکھیں

تابِ غم ایک گھڑی بھی نہیں لائیں آنکھیں
جی بھر آیا تو اسی آن بھر آئیں آنکھیں

ناروا، اپنا رویہ اسے یاد آیا ہے
بے سبب ہم سے نہیں اس نے چرائیں آ نکھیں

روشنی باعثِ زحمت بھی تو ہو جاتی ہے
اس چکا چوند نے کتنوں کی بجھائیں آنکھیں

آنکھ والو، فقط آنکھوں پہ نہ تکیہ کرنا
بارہا یوں بھی ہوا، کا م نہ آئیں آنکھیں

کیا کہیں ڈالے ہیں جب جبر کے، آگے ہتھیار
ہم نے پھر خود سے بھی پہروں نہ ملا ئیں آنکھیں

کم سے کم اس کو نظر بھر کے تو دیکھا ہوتا
جس نے رو رو کے ترے دکھ میں گنوا ئیں آنکھیں

ناسپاسی بھلا دنیا کی، نئی کب ہے نعیم؟
کیا نیا دیکھ لیا ہے جو بھر آئیں آنکھیں

Related posts

Leave a Comment