ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ رباعیات

مرنا ہے تو بے موت نہ مرنا بابا دم سادھ کے اس پُل سے گزرنا بابا سنتے ہیں کہ ہے موت سفر کا وقفہ اس پار ذرا بچ کے اترنا بابا ۔۔۔ موتی نہ تھے دریا میں تو ہم کیا کرتے آنسو ہی نہیں آنکھ میں غم کیا کرتے ہاتھ آوے کھوکھلے لفظوں کے صدف گہرائی کی رُوداد رقم کیا کرتے ۔۔۔ تقدیر پہ الزام نہیں دھر سکتے خاکے میں سیہ رنگ نہیں بھر سکتے ہر لوح پہ تحریر کہ جینا ہے حرام آواز لگا دو کہ نہیں مر سکتے…

Read More

اے ڈی اظہر ۔۔۔ وزیر کی دوسری شادی

کراچی میں کمر باندھے ہوئے سب یار بیٹھے ہیں بیاہے جا چکے، اک بار پھر تیار بیٹھے ہیں جسے دیکھو وہی ہے دوسری بیوی کے چکر میں غنیمت ہے موحد جو یہاں دو چار بیٹھے ہیں نہ چھیڑ اے شیخ ہم یوں ہی بھلے چل راہ لگ اپنی تجھے تو بیویاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں نہ کر لیں چار جب تک شیخ جی کیوں دم لگیں لینے وہ دو کر کے بھی کہتے ہیں کہ ہم بے کار بیٹھے ہیں کہاں اب چین گھر کا جب سے بیوی…

Read More

ابتدا ۔۔۔ خالد علیم

اِبتدا ۔۔۔۔۔۔ تو لازوال ہے ، سب کچھ تری بساط میں ہے مرا وجود شب و روز اِنحطاط میں ہے تُو نورِ مسجد و معبد، تُو میرا ربّ ِاَحد مرا حدیقۂ جاں تیرے اِنضباط میں ہے جو لب پہ جاری ہو سُبَحانَ رَبّیَ الْاَعْلیٰ تو دل سرور میں ہے، رُوح بھی نشاط میں ہے میں تیری حمد کہوں، کیا مجال ہے میری میں تیری مدح لکھوں، کب مری بساط میں ہے میں تجھ سے چاہوں مدد نعتِ مصطفیٰ ؐ کے لیے مرے قلم کی دُعا اِھْدِنَاالصَّراط میں ہے تری خبر…

Read More

میر تقی میر ۔۔۔۔ رباعیات

کیسا احساں ہے خلق عالم کرنا پھر عالمِ ہستی میں مکرم کرنا تھا کارِ کرم ہی اے کریمِ مطلق ناچیز کفِ خاک کو آدم کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ دل جان جگر آہ جلائے کیا کیا درد و غم و آزار کھنچائے کیا کیا ان آنکھوں نے کی ہے ترک مردم داری دیکھیں تو ہمیں عشق دکھائے کیا کیا ۔۔۔۔۔۔ شب ابر کہ پیشرو ہو دریا جس کا آیا دل داغ کر گیا جس تس کا اس سے ناگاہ ایک بجلی چمکی کیا جانیے ان نے گھر جلایا کس کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابرو سے…

Read More

خالد عرفان ۔۔۔ نوجواں لوگ پجامے کو برا کہتے ہیں

نوجواں لوگ پجامے کو برا کہتے ہیں پینٹ پھٹ جائے تو قسمت کا لکھا کہتے ہیں اپنے اشعار میں جمعہ کو جما کہتے ہیں ایسے استاد کو فخر الشعرا کہتے ہیں نظم کو گفٹ رباعی کو عطا کہتے ہیں شعر وہ خود نہیں کہتے ہیں چچا کہتے ہیں آئی ایم ایف کو سمجھتے ہیں معیشت کا علاج لوگ الکحل کو کھانسی کی دوا کہتے ہیں یہ تو چلتی نہیں پی ایم کی اجازت کے بغیر اس کو ایوانِ صدارت کی ہوا کہتے ہیں جانے کب اس میں ہمیں آگ لگانی…

Read More

عزیز فیصل ۔۔۔ اچھے خاصے آدمی کو جانور اس نے کیا

بیگماتی بونسروں کو بے اثر اس نے کیا ایک ہیلمٹ اوڑھ کر محفوظ سر اس نے کیا یہ تو اس موذی کے بائیں ہاتھ کا ہی کھیل ہے خیر کو اپنی صلاحیت سے شر اس نے کیا میرے جذبوں کی دھنک کو اس کی دیمک لگ گئی میں بڑا رنگین تھا پر ڈس کلر اس نے کیا بار برداری میں الجھا ہے وہ شوہر رات دن اچھے خاصے آدمی کو جانور اس نے کیا

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ عقیدت (ماہنامہ بیاض اکتوبر ۲۰۲۳)

کبھی یہ معجزۂ ماہ و سال ہو جائے عظیم رفتہ نگہبانِ حال ہو جائے وہ روشنی ہے مِرے فکر و فن کے خیموں میں جہاں بھی اُبھرے وہاں بے مثال ہو جائے ہمیں نصیب ہو تطہیرِ فکر کی ساعت ہوس کی قید سے جذبہ بحال ہو جائے شجر کا ہاتھ نہ چھوٹے اگرچہ کانٹوں سے لہو لہان بھی شاخِ مآل ہو جائے حسینؓ آپ سے نسبت ہے جس روایت کو خدا کرے اُسے حاصل کمال ہو جائے

Read More

سیما پیروز ۔۔۔ ماہیے (ماہنامہ بیاض اکتوبر ۲۰۲۳)

آنگن کو سجایا نہیں بادل تھا وہ ساون کا پھر لوٹ کے آیا نہیں …………… کوئی دیس گلابوں کا کیوں توڑ دیا تو نے شیشہ میرے خوابوں کا …………… روشن اک تارا ہے کیوں روٹھ گئے ساجن کیا دوش ہمارا ہے …………… نہ نیند نہ سپنا ہے آ اب لوٹ چلیں وہ دیس تو اپنا ہے …………… جیون تو فسانہ ہے منزل ہے دور میری پر لوٹ کے جانا ہے …………… سیا چین کو جا کاگا ہے دور میرا ڈھولا پیغام پہنچا کاگا …………… راتوں کو نہ سوئی میں جب…

Read More