غلام مرتضیٰ ۔۔۔ دامن میں اک پہاڑکے۔۔۔۔۔۔

دامن میں اک پہاڑکے۔۔۔۔۔ (SAMUEL ROGERSکی نظم ’’A WISH ‘‘ کا آزاد ترجمہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دامن میں اک پہاڑ کے کٹیا بناؤں گا میں چھوڑ کر نگر، کوئی جنگل بساؤں گا ہر صبح بھیرویں مجھے گا کر سنائے گی کانوں میں رس پڑے گا، مگس بھنبھنائے گی چکّی مری چلائے گی بہتی ہوئی ندی جھرنوںکے نیلے جل سے، ہری گھاس سے بھری اس چھت کے نیچے رہنے ابابیل آئے گی گارے کے گھونسلے میں بہت چہچہائے گی مہمان تحفہ لائے گا اک جانماز کا کھائے گا ساتھ کھانا وہ زائر حجاز…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔۔ رخشندہ نوید

شمارِ رحمتِ ربیّ ہو وہ عدد نہیں ہے میں حمد کیسے لکھوں اتنا میرا قد نہیں ہے پناہ دیتا ہے وہ ذوالجلال والاکرام کہ اس جناب میں تفریقِ نیک و بد نہیں ہے وہ سب کی جھولیاں بھرتا ہے سب کا رب جو ہوا اُسی کا در ہے جہاں مانگنے کی حد نہیں ہے وہی ہے رازق و مالک‘ نہیں کوئی ذی روح کہ جس کے واسطے اللہ کی مدد نہیں ہے تجھی کو زیبا ہیں مالک تمام ذات و صفات الٰہ کیسے وہ ہو گا کہ جو صمد نہیں…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ بشیر رزمی

توُ نظر آتا نہیں انت خیر الخالقین رحم کر بس رحم کر انت خیر الرّٰحِمین علم کا در کھول دے انت خیر الکاشِفین میری بھی تکمیل کر انت خیر الکاملین میرے حق میں فیصلہ! انت خیر الفاصلین رزق دے بے انتہا انت خیر الرّٰزقین منکشف ہر راز کر انت خیر الکاشِفین نیک رستے کھول دے انت خیر الفاتحین دُور کر بیماریاں انت خیر الشافِیین تُو ہے میرا رہ نما انت خیر الھادِیین میرے مولا بخش دے انت خیر الغافرین دلکشا تدبیر ہے انت خیر الماکرین میں ہوں رزمی‘ؔ اے خدا!…

Read More

Masaoka Shiki translated by Khawar Ijaz

The Soft breeze And in the green of a thousand hills A single temple ہر سُو نرم ہَوا لا تعداد پہاڑوں میں اِک مندر تنہا A travelling show The banner is wet In the spring rain تم بھی دیکھو تو بارش میں بھیگا بینر چلتا پھرتا شو The peacock Spreading out his tail In the spring breeze پر پھیلائے مور سر سبزی کے موسم کو کر دے ہور دا ہور Going out of the house Ten paces And the vast autumn sea چند ہی قدموں پر گھر کے باہر پھیلا…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ رباعیات

سورج ہے عجیب، کچھ اُجالا کرکے اک اگلی صبح کا تقاضا کرکے ہر رات ستاروں کو بجھا دیتا ہے ہر روز نکلتا ہے تماشا کرکے ٭ حیرت کی فراوانی گھر پر ہے میاں باہر بھی گھر جیسا منظر ہے میاں آنکھیں نہ جلا کہ اندروں جل جائے خاموش کہ خامشی ہی بہتر ہے میاں ٭ کھِل سکتا ہے گوبر سے گُلِ ریحانی جوہڑ سے نکل سکتا ہے میٹھا پانی یہ جَہلِ مرکّب جو نہیں تو کیا ہے؟ نادان کی نادانی پر حیرانی ٭ ایسا بھی بے خبر کوئی دل ہوگا؟…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ صفدر صدیق رضی

حمد لکھوں گا میں ہر صنفِ سخن سے پہلے یوں تِرا نام زباں پر ہے دَہن سے پہلے تجھ کو رکھا گیا جب کچھ بھی نہ رکھا تھا کہیں دل بنایا گیا سینے میں بدن سے پہلے جتنا بہتر ہوں میں اب تک تری توفیق سے ہوں میں گنہگار تھا اس چال چلن سے پہلے اس بلا وجہہ تکلف کی ضرورت کیا تھی میں ترے ساتھ ہی تھا دارورسن سے پہلے سجدہ کرتا ہوں تو احساسِ ندامت کے ساتھ درد ہوتاہے مرے دل میں چبھن سے پہلے یا الٰہی مجھے…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ اشرف کمال

سر چھپانے کے لیے دھوپ میں گھر دیتا ہے وہ خدا ہے جو اندھیروں کو سحر دیتا ہے میرے بگڑے ہوئے حالات سنوارے گا ضرور وہ جو سوکھے ہوئے پیڑوں کو ثمر دیتا ہے میرا سرمایہ بنے حمد وثنا کے آداب میرا خالق مجھے لفظوں کا ہنر دیتا ہے کس محبت سے وہ سنتا ہے دعائیں سب کی ٹوٹے پھوٹے ہوئے لفظوں میں اثر دیتا ہے جستجو تیری کہاں بیٹھنے دیتی ہے مجھے تو مجھے روز نیا اذنِ سفر دیتا ہے حوصلہ مند کو مایوس نہیں کرتا کبھی وہ گزرنے…

Read More