”تذکرہ نگار کہتا ہے کہ وہ صرف ان شاعروں کا ذکر کرے گا جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ اُن کی تکنیک نئی ہوگی اور اُن کی شاعری شہری زندگی سے طلوع ہوگی مگر اُن کے گھروں کے سامنے ”شجرة الکون“ ہوگا یا گو تم کا درخت۔ اُن کے لفظ کبھی بہار کے پتوں کی طرح سبز اور کبھی خزاں کے پتوں کی طرح زرد ہوں گے“۔ یہ قمر جمیل کی نثری نظم ”تذکرہ گلشنِ جدید“ ایک اقتباس ہے۔ اِس نظم پر گفتگو کرنے سے قبل آئیے ذرا قمر جمیل کے…
Read MoreCategory: منتخب مضامين
اسلوبیات کی افہام و تفہیم ۔۔۔۔ مرزا خلیل احمد بیگ
اس مقالے کا مقصد قارئین کو ادبی تنقید کے ایک نئے رجحان یا دبستان سے روشناس کرانا ہے جسے اسلوبیات کہتے ہیں۔ اس میں جو نکات پیش کئے گئے ہیں وہ یہ ہیں: زبان، ادب کا ذریعہ اظہار ہوتی ہے۔ زبان اور ادب کے درمیان گہرا رشتہ پایا جاتا ہے۔ زبان کے مخصوص استعمال سے کسی ادیب کے اسلوب (Style)کی تشکیل عمل میں آتی ہے۔اسلوب کا مطالعہ اور تجزیہ اسلوبیات کہلاتا ہے جسے ’اسلوبیاتی تنقید‘ بھی کہتے ہیں ۔ اسلوبیات کی بنیاد لسانیات (Linguistics)پر قائم ہے۔ اسلوبیاتی طریقہ کار معروضی،…
Read Moreضامن جعفری کی ”ریش خند“ شاعری: خصوصی مضمون …. ستیہ پال آنند
طنزاور وہ بھی ”ریش خند طنز“ ایک مشکل صنفِ ادب ہے۔ اس میں ہتک، قدح، بد گوئی کی گنجائش نہیں۔ اس میں مشمولہ ہنسی اور خندہ زنی کے عناصر اسے ترچھا پن اور اس ترچھے پن کی کند چھُری کی کاٹ تو عطا کرتے ہیں، لیکن عیب گیری اور چشم نمائی سے دور رکھتے ہیں۔اہل قلم نے اردو نثر میں جب اسے رواج دیا تو ’انشایئہ ‘ یا’خاکہ‘ کی اصناف ادب نے اسے خود میں جذب کر لیا۔ ذات اور واردات کے حوالوں سے کسی بھی منظر نامے کو یا…
Read Moreعظیم محقق اور بڑے مزاح نگار مشفق خواجہ کی یاد میں … رضوان احمد
نامورمحقق،شاعر اور مزاح نگارمشفق خواجہ نے اپنی چھاپ ہر صنف پر چھوڑی ہے۔ وہ تحقیق کرنے پر آتے تھے تو موضوع کو حرفِ آخر تک لے جاتے تھے۔ شاعری انہوں نے کم کی لیکن بڑے ہم عصر شعراء اور ناقدین سے داد حاصل کی اور جہاں تک کالم نگاری کا سوال ہے تو انہوں نے ایک نئی طرز کی بنیاد ڈال دی۔ جس کی ابتدا بھی انہیں پر ہو تی ہے اور خاتمہ بھی انہی پر۔ خامہ بگوش کے نام سے انہوں نے” تکبیر“ میں جو کالم لکھے تھے، انہوں…
Read Moreفارسی کے بے بدل عالم پروفیسر نذیر احمد ۔۔۔ رضوان احمد
اردو فارسی کے نامور محقق اور بین الاقوامی شہرت کے مالک پروفیسر نذیر احمد ایک طویل علالت کے بعد 19اکتوبر 2008 کو علی گڑھ میں فوت ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی تحقیق کا نہ صرف روشن آفتاب گل ہو گیا بلکہ فارسی زبان کا ایک ایسا عالم ہمارے درمیان سے اٹھ گیا جسے بین الاقوامی سطح پر بھی بہت ہی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ نذیر احمد اتر پردیش کے ضلع گونڈا کے ایک گاؤں میں 3جنوری 1915ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے تعلیم دانش گاہ…
Read Moreاردو تحریک اور مسعود حسین خاں ۔۔۔ پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ
بعض محققین کا خیال ہے کہ اردو کے عروج کا زمانہ سلطنت مغلیہ کے زوال (1857) کا زمانہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے محض دس سال بعد ہی سے اردو کے زوال کی بھی داستان شروع ہو جاتی ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ 1867میں متحدہ صوبہ جات (United Provinces)، جسے اب اتر پردیش کہتے ہیں، کے بعض ہندو حکومت برطانیہ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ سرکاری زبان اردو کو، جسے 1837میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا، کو…
Read Moreخطوطِ غالب: جو معاشرتی حالات سے موسم تک پر بہترین تبصرہ ہیں ۔۔۔ دھرمیندر سنگھ
غالِب کا ایک مقبول و معروف شعر ہے: قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں اردو کے مقبول ترین شاعر اسد اللہ خاں غالب کو دنیا ایک شاعر کی حیثیت سے جانتی اور مانتی ہے لیکن ان کے خطوط ان کے دور کی بہترین عکاسی کرتے ہیں جس سے اکثر لوگ ناواقف ہیں۔ غالب کی شاعری ان کی شخصیت کی پہچان ہے لیکن غالب نے اپنے دوستوں، شاگردوں اور نوابوں کو بہت سے خطوط لکھے۔ یہ خطوط انھیں سمجھنے…
Read Moreمحمد حسین آزاد کے اسلوب کا تجزیاتی مطالعہ : بہ حوالہ ” نیرنگِ خیال” ۔۔۔۔ زاہد ہمایوں
A style is an aspect or dimension of thoughts and emotional manifestation which owes its existence to the individuality of an author. The despair in “Meer”, mysticism in “Dard” and loftiness of thoughts in “Ghalib” are all styles. Similarly, the gravity in “Hali”, the religious encroachments of Nazir Ahmed and imaginary personification in “Azad’s writings are all styles. According to a research conducted by “Dr. Muhammad Sadiq”, the essay of “Nairang-e-Khayal” are the translated versions of English pieces of writings of “Johnson”, “Edison”, and “Steele” etc. For the Sake…
Read Moreحیدر آباد دکن میں اردو شاعری کا جائزہ (عادل شاہی عہد سے 1960ء تک): ڈاکٹر ناہیدہ سلطانہ ۔۔۔ تبصرہ: ڈاکٹر عزیز سہیل
یدرآباد دکن کی جامعات سے فارغ اردو ریسرچ اسکالرس کی تحقیقی تخلیقات روز بہ روز ایک کے بعد دیگر منظر عام پر آ رہی ہیں ان میں چند ایک خواتین اسکالر بھی ہیں جنہوں نے اپنے موضوع سے متعلق بہت ہی معیاری اور منفرد تحقیقی کام انجام دیا ہے ان میں ایک معتبر نام ڈاکٹر ناہیدہ سلطانہ کا بھی ہے، ڈاکٹر ناہیدہ سلطانہ نے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی سے مکمل کیا ہے اور اب درس و تدریس کے میدان میں اپنے جواہر دکھا…
Read More’یادگارِ غالب‘ پر ایک قاری کا نوٹ ۔۔۔ پروفیسر کوثر مظہری
خواجہ الطاف حسین حالی — ایک عالم، ایک مصلح، ایک شاعر، ایک نقاد، ایک سوانح نگار۔ یہ پانچوں صفات محض زیب داستاں کے لیے نہیں۔ آپ حالی کو جہاں جس خانے میں چاہیں رکھ کر پرکھیں، آپ کو مایوسی نہیں ہوگی، شرط یہ ہے کہ آپ کی میزان میں کسی ایک طرف پہلے سے ہی خفیہ پاسنگ کا بٹخرہ موجود نہ ہو۔ ان کی تصانیف میں مولود شریف (1864)، تریاق مسموم (پادری عماد الدین کی کتاب ہدایت المسلمین کے جواب میں غالباً 1868 میں تحریر کی گئی)، تاریخ محمدی پر…
Read More