علمدار حسین ۔۔۔ ایک تو تھی شہر میں اشکوں کی ارزانی بہت

ایک تو تھی شہر میں اشکوں کی ارزانی بہت اور اس پر تھا مری آنکھوں میں بھی پانی بہت اب کے سب اچھے برے غرقاب ہوں گے ساتھ ہی اب کے سیلِ آب میں ہونی ہے طغیانی بہت مجھ کو رونے کے لیے درکار تھا شانہ کوئی تھی مگر آب و ہوا بستی کی بیگانی بہت نام لے لے کر کسی کا درد اپنے رو دیے کام میرے آئی میری مرثیہ خوانی بہت آدمی کو فرشِ غم پر کھل کے رونا چاہیے درد رو دینے سے ہو جاتی ہے آسانی…

Read More