مظفر حنفی ۔۔۔ اک ستارہ ہے جو بیدار کیا کرتا ہے

اک ستارہ ہے جو بیدار کیا کرتا ہے رات بھر تذکرۂ یار کیا کرتا ہے بیٹھنے پاتے نہیں سایۂ دیوار میں ہم کوئی گریہ پسِ دیوار کیا کرتا ہے وہ بھڑکتا ہے مرے سینے میں شعلے جیسا پھر اسی آگ کو گلزار کیا کرتا ہے ایک ناسور ہے احساس میں حق تلفی کا جو مری ذات کو مسمار کیا کرتا ہے بادباں کھول کے دیکھو تو سفینے والو خشک دریا بہت اصرار کیا کرتا ہے کوئی خوشبو کی طرح نام ترا لے لے کر پھول کے کان میں گنجار کیا…

Read More

سجاد حسین ساجد ۔۔۔ وجودِ ذات میں روشن جہان کیسے لگے

وجودِ ذات میں روشن جہان کیسے لگے مکاں میں رہتے ہوے لا مکان کیسے لگے سجا کے آنکھ میں لاشے حسین خوابوں کے وفا کے لٹتے ہوے کاروان کیسے لگے میں ممکنات سے لمحے چرا کے لایا ہوں جو درد تونے کیے مجھ کو دان، کیسے لگے لطیف وقت تھا جو تیرے ساتھ بیت گیا جو ٹوٹے ہجرکے پھر آسمان، کیسے لگے تجھے کہا تھا: محبت فریب دیتی ہے سجائے عشق کے دل پر نشان، کیسے لگے ہوا کے زور سے گر تو گئے درخت‘ مگر پرندے پھرتے ہوے بے…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ اشرف کمال

سر چھپانے کے لیے دھوپ میں گھر دیتا ہے وہ خدا ہے جو اندھیروں کو سحر دیتا ہے میرے بگڑے ہوئے حالات سنوارے گا ضرور وہ جو سوکھے ہوئے پیڑوں کو ثمر دیتا ہے میرا سرمایہ بنے حمد وثنا کے آداب میرا خالق مجھے لفظوں کا ہنر دیتا ہے کس محبت سے وہ سنتا ہے دعائیں سب کی ٹوٹے پھوٹے ہوئے لفظوں میں اثر دیتا ہے جستجو تیری کہاں بیٹھنے دیتی ہے مجھے تو مجھے روز نیا اذنِ سفر دیتا ہے حوصلہ مند کو مایوس نہیں کرتا کبھی وہ گزرنے…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو

آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو نغمہ ہو جاتا ہے بے کیف اگر ساز نہ ہو میں نے منزل کے لیے راہ بدل دی ورنہ روک لے دیر جو کعبہ خلل انداز نہ ہو مرتے مرتے بھی کہا کچھ نہ مریض غم نے پاس یہ تھا کہ مسیحا کا عیاں راز نہ ہو ساقیا جام ہے ٹوٹے گا صدا آئے گی یہ مرا دل تو نہیں ہے کہ جو آواز نہ ہو اے دعائے دلِ مجبور وہاں جا تو سہی لوٹ آنا درِ مقبول اگر باز…

Read More

انشااللہ خان انشا ۔۔۔ اچھا جو خفا ہم سے ہو تم، اے صنم اچھا

اچھا جو خفا ہم سے ہو تم، اے صنم اچھا لو ہم بھی نہ بولیں گے خدا کی قسم اچھا   مشغول کِیا چاہیے اِس دل کو کسی طور لے لیویں گے ڈھونڈ اور کوئی یار ہم اچھا   گرمی نے کچھ آگ اور بھی سینہ میں لگائی ہر طور غرض آپ سے ملنا ہے کم اچھا   اغیار سے کرتے ہو مرے سامنے باتیں مجھ پر یہ لگے کرنے نیا تم ستم اچھا   ہم معتکفِ خلوتِ بت خانہ ہیں اے شیخ جاتا ہے تو جا تُو پئے طوفِ…

Read More

خلیل رام پوری ۔۔۔ پانی سمندروں میں نہیں کیا گھٹا اٹھے

پانی سمندروں میں نہیں، کیا گھٹا اٹھے کوئی خدا شناس بدستِ دعا اٹھے آواز دے کہ دوڑ پڑے زندگی کہ لہر مردہ بھی خاک سے جو اٹھے، بولتا اٹھے ایسے میں روئے، چونک پڑا جس طرح کوئی دریا کے درمیان سے ڈوبا ہوا، اٹھے کوئی تو نقش ابھرے خلا کا نگاہ میں منظر کوئی تو خاک سے لے کر ہوا اُٹھے نرغے میں دشمنوں کے کھڑا سوچتا ہے کیا آواز تو لگا، کوئی مردِ خدا اُٹھے دم گھٹ رہا ہے ساری فضا کا ہوا بغیر ایسے میں میری گرد کا…

Read More