انصر منیر ۔۔۔ چشمِ افلاک کے بے مہر ستارے آئے

چشمِ افلاک کے بے مہر ستارے آئے
میرے حصے میں محبت کے خسارے آئے
دشتِ ہجراں میں بھلا شوق سے آتا ہے کوئی
جو بھی آئے تھے کسی زعم کے مارے آئے
دل تو ویسے بھی ہے اک کارِ زیاں پر مائل
پر میں کہتا ہوں کہ یہ کام تمھارے آئے
مجھ پہ چلتا تو نہیں کارِ مسیحا پھر بھی
گردِ احساسِ تمنا کو اتارے، آئے
باپ مرتا ہے تو پھر خواب بھی مر جاتے ہیں
پھر نہ معصوم سے بچے کے غبارے آئے
کوئی تو ایک سہارا بھی کہیں سے آتا
میرے تو یار نہ دریا نہ کنارے آئے
میں تو ہوں عشق کے ابہام کا مارا انصر
کوئی اپنا ہے تو پھر نام پکارے، آئے
…………………………
مری بصارت کی سب طنابیں ہی کٹ گئی ہیں
یہ میری آنکھیں تمھارے چہرے سے ہٹ گئی ہیں

جہاں پہ تم نے یہ طے کیا تھا کہ ہم جدا ہیں
تمھاری یادیں وہیں سے ہو کر پلٹ گئی ہیں

ہمارے دل میں تو دھڑکنوں کا سبب بھی تو تھا
یقین کر لو کہ اب وہ گنتی میں گھٹ گئی ہیں

یہ میری سوچیں تمھاری قربت پہ مرتکز تھیں
جو تم گئے ہو تو کتنے حصوں میں بٹ گئی ہیں

بصارتیں بھی نہ اس تحیّر کی تاب لائیں
مگر وہ چہرہ کہیں کہیں سے تو رٹ گئی ہیں

میں چاہتا تھا کہ خود کو اس کے خلاف کر لوں
کہ اس کی یادیں انا کے رستے میں ڈٹ گئی ہیں

Related posts

Leave a Comment