صغیر احمد صغیر ۔۔۔ خواہشِ انجمنِ جام و طرب ہے ہی نہیں

خواہشِ انجمنِ جام و طرب ہے ہی نہیں
سچ بتاؤں تو کوئی دل میں طلب ہے ہی نہیں

لاکھ بتلاتا ہوں پھر بیچ میں لے آتے ہو
مسلکِ عشق میں یہ نام و نسب ہے ہی نہیں

حیف صد حیف یہاں کوئی گنہگار نہیں
کیسی محفل ہے طلب گار و طلب ہے ہی نہیں

نہیں معلوم کہ غمگین ہوں کس کی خاطر
مسئلہ یہ ہے کوئی غم کا سبب ہے ہی نہیں

عہد و پیمان ، شکایات ، جنوں ، میخانے
عقل والوں کے نصیبوں میں یہ سب ہے ہی نہیں

Related posts

Leave a Comment