اب جو پیروں پہ ہم کھڑے ہوئے ہیں
ایک دنیا سے ہم لڑے ہوئے ہیں
دیکھ ہم کو کہانیاں نہ سنا
ہم اسی شہر میں بڑے ہوئے ہیں
خود کو برباد کر لیا ہم نے
اپنی ضد پر مگر اڑے ہوئے ہیں
کوئی تو ہم کو تھامنے آئے
کوئی دیکھے کہ ہم کھڑے ہوئے ہیں
ایک سادہ سی بات تھی، لیکن
کتنی مشکل میں ہم پڑے ہوئے ہیں
۔۔۔۔
جدائی کے ستم ڈھانے سے پہلے
پلٹ آؤ بکھر جانے سے پہلے
خوشی تھی، رنگ تھے، رعنائیاں تھیں
تمہارے شہر میں آنے سے پہلے
ابھی بھی وقت ہے تم لوٹ آؤ
مرے دل سے اتر جانے سے پہلے
ہمیں رنگوں کی یوں پہچان کب تھی
تمہارے رو بہ رو آنے سے پہلے
مجھے بھی زعم تھا غزلوں پہ اپنی
تری آنکھوں میں کھو جانے سے پہلے
کہاں تھے کیا تھے شاید کچھ نہیں تھے
تری نظروں میں ہم آنے سے پہلے
