غلام حسین ساجد ۔۔۔ دِیے کی بے قراری، آئنے کی چھب وہی تو ہے

دِیے کی بے قراری، آئنے کی چھب وہی تو ہے
جسے مَیں یاد رکھنا چاہتا ہوں سب وہی تو ہے

حرم کو راہ اب بھی مے کدے سے ہو کے جائے گی
کہ اِس بارے میں اہلِ ذوق کا مشرب وہی تو ہے

ُلبھاتا ہے کسی مہ وش کو اب تک آئنہ میرا
وہی خوش منظری ہے اور تاب و تب وہی تو ہے

مَیں اب بھی اخترانِ کذب کی تحدید کرتا ہوں
کہ ایوانِ صداقت میں مِرا منصب وہی تو ہے

نہیں کچھ بھی نیا اِس خاک داں پر ایک مدّت سے
یہ قندیلیں وہی تو ہیں، چراغِ شب وہی تو ہے

اُسے تسلیم کرتا ہوں تہِ دل سے مگر ساجدؔ
زباں سے کہہ نہیں پاتا کہ میرا رب وہی تو ہے

Related posts

Leave a Comment