پیاسی نظر کو یار کی جب دید ہو گئی
سچ پوچھیٔے تو اپنی وہیں عید ہو گئی
جب عید ہو گئی تو سمجھ لو کہ اس طرح
عہد ِوفا کی خیر سے تجدید ہو گئی
دل اور آنکھ کا ہی یہ سارا ہے تال میل
تجسیم ہو گئی کبھی تجرید ہو گئی
پہلی نظر نے ہی مجھے کُندن بنا دیا
تمہید ہی خلاصۂ توحید ہو گئی
آنے لگی ہے پیش رُکاوٹ قدم قدم
اُن کی طرف سے بھی مری تائید ہو گئی
کچھ دیکھنے کا عزم کیا، پردے پڑ گئے
کچھ سوچنے کی دیر تھی، تردید ہو گئی
معروض کا جواب ہے انشائے فکر و فن
تجنیس کے سوال پہ تعقید ہو گئی
زنجیرِ عدل آج ہلا کر بھی کیا ملا
پھر صبر کی غریب کو تاکید ہو گئی
نو میدیوں کا تازہ کرشمہ عجیب ہے
ہر سانس پیش خیمہء اُمید ہو گئی
فیضاؔن،اک رکھیل تھی دنیا تو سر بسر
اب زندگی بھی دیکھ لو بے دید ہو گئی
