ادراک
عمر بھی کی کاہشِ بےغم کے خوگر
اس جہانِ بےبصر میں ہم کہاں تک
اپنے دل میں خاک ہوتی بستیوں کے دکھ سمیٹیں
بین کرتی خواہشوں کی بھیڑ میں
روز اک تازہ لحد کی باس لے کر
کب تلک پھرتے رہیں گے دربدر
پیشتر اس سے کہ یہ ساری متاعِ بے ہنر
خاک میں مل جائے
ہم فرض کر لیں
یہ جہانِ بےبصر اک گلشنِ نوخیز ہے
اور اس کے سب طیورِ خوشنوا کی
رنگ برنگی بولیوں سے لفظ کچھ دامن میں چن کر
صفحۂ خوابِ بشارت پر الٹ دیں ہم اگر
ڈھونڈ لیں پھر اس خزینۂ گہر آباد سے
ایک حرفِ باریاب
اور پھر دستِ تمنا کے حوالے کر بھی دیں
ڈور یہ سانسوں کی تب شاید سلجھ جائے مگر
موجِ فکرِ ساعتِ آئندہ ہم کو
ایک پل بھی چین لینے دے تو پھر
