علی اصغر عباس ۔۔۔ GENESIS

GENESIS
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارادہ تھاکہ میں بھی زندگی کا لطف لوں گا
اور اس کے ساتھ کھیلوں گا
اسی امکان پہ ارواح سے میں نے اجازت لی
کہ چپکے سے لہو کے لوتھڑے میں جان،بن آیا
اندھیرے میں لہو کا لوتھڑا چمکا
ذرا دھڑکا
جو لمبی سانس کھینچی تو کسی نے پیرہن بدلا
غبارے میں ہوا کے ساتھ پانی نے
لہو کا لوتھڑا سینچا
عجب نقشہ نگاری کی
مرے بھی خال و خد نکلے
مری تجسیم ہوتے ہی
غبارے سے ہوا نکلی
تو مجھ کو گدلے پانی نے دھکیلا
اور کالی کوٹھڑی کی بند کھڑکی کا
دریچہ کھول کے
باہر اچھالا،زور سے پٹخا
کہ میری چیخ نکلی
اور پھر چیخیں۔۔۔!!

Related posts

Leave a Comment