تو محبت کا پیامی ہے حسین ابن علیؓ
تیری جرات کو سلامی ہے حسین ابن علیؓ
عظمت آثار ترا نقشِ قدم ہے مولا
خواجگی تیری غلامی ہے حسین ابن علیؓ
حشر تک سارے یزیدوں کے لیے مرگ اثر
آپ کا اسم گرامی ہے حسین ابن علیؓ
شائبہ کوئی نہیں اس میں ذرا بھی شر کا
خیر ہی خیر تمامی ہے حسین ابن علیؓ
تجھ کو جو ذرہ برابر بھی غلط کہتا ہے
اس کے ہونے میں ہی خامی ہے حسین ابن علیؓ
جامۂ صبر و رضا پہنے سر نوکِ سناں
تیری قرآن کلامی ہے حسین ابن علی ؓ
جس میں کچھ نور ہدایت کی رمق ہے موجود
تو ہر اس دل کا مقامی ہے حسین ابن علیؓ
دنیا داروں کی خوشامد کروں کیسے سرورؔ
جب مرا مونس و حامی ہے حسین ابن علی
