رات کا کرب سمیٹے ہوئے سو جاتا ہوں شور چڑیوں کا مجھے آ کے جگا دیتا ہے
Read MoreMonth: 2021 مارچ
کشور ناہید
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں، تماشا ہی نہ ہو راس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو
Read Moreمحمود شام
اونے پونے غزلیں بیچیں، نظموں کا بیوپار کیا دیکھو ہم نے پیٹ کی خاطر کیا کیا کار و بار کیا
Read Moreسلیم طاہر… زخم جب لہجے کی تلوار سے لگ جاتے ہیں
زخم جب لہجے کی تلوار سے لگ جاتے ہیں ہم ، الجھتے نہیں، دیوار سے لگ جاتے ہیں بعض اوقات تو ، گاہک نہیں ملتا کوئی بعض اوقات تو بازار سے لگ جاتے ہیں جب سر ِ راہ ، زمانہ نہیں چلنے دیتا ہم پلٹتے ہیں در ِ یار سے لگ جاتے ہیں
Read Moreحبیب جالب ۔۔۔ اِس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے
اِس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے یہ ہنستا ہوا چاند ، یہ پُر نور ستارے تابندہ و پائندہ ہیں ذروں کے سہارے حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے ہر صبح مری صبح پہ روتی رہی شبنم ہر رات مری رات پہ ہنستے رہے تارے کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غمِ جاناں کب تک کوئی اُلجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے
Read Moreافتخار عارف
میں جیسے تیسے ٹوٹے پھوٹے لفظ گھڑ کے آگیا کہ اب یہ تیرا کام ہے بگاڑ دے سنوار دے
Read Moreانور مسعود… رات آئی ہے بلاؤں سے رہائی دے گی
رات آئی ہے، بلاؤں سے رہائی دے گی اب نہ ديوار، نہ زنجير دکھائی دے گی وقت گزرا ہے پہ موسم نہيں بدلا، يارو! ايسی گردش ہے، زميں خود بھی دہائی دے گی يہ دھندلکا سا جو ہے اس کو غنيمت جانو ديکھنا پھر کوئی صورت نہ سجھائی دے گی دل جو ٹوٹے گا تو اک طرفہ تماشہ ہوگا کتنے آئينوں ميں يہ شکل دکھائی دے گی ساتھ کے گھر ميں بڑا شور بپا ہے انور کوئی آئے گا تو دستک نہ سنائی دے گی
Read Moreامجد اسلام امجد … ایک آزار ہوئی جاتی ہے شہرت ہم کو
ایک آزار ہوئی جاتی ہے شہرت ہم کو خود سے ملنے کی بھی ملتی نہیں فرصت ہم کو روشنی کا یہ مسافر ہے رہِ جاں کا نہیں اپنے سائے سے بھی ہونے لگی وحشت ہم کو آنکھ اب کس سے تحیر کا تماشا مانگے اپنے ہونے پہ بھی ہوتی نہیں حیرت ہم کو اب کے امید کے شعلے سے بھی آنکھیں نہ جلیں جانے کس موڑ پہ لے آئی محبت ہم کو کون سی رت ہے زمانے میں ہمیں کیا معلوم اپنے دامن میں لیے پھرتی ہے حسرت ہم کو…
Read Moreابن انشا ۔۔۔ پھر تمھارا خط آیا
پھر تمہارا خط آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام حسرتوں کی شام رات تھی جدائی کی صبح صبح ہر کارہ ڈاک سے ہوائی کی نامۂ وفا لایا پھر تمہارا خط آیا پھر کبھی نہ آؤںگی موجۂ صبا ہو تم سب کو بھول جاؤںگی سخت بے وفا ہو تم دشمنوں نے فرمایا دوستوں نے سمجھایا پھر تمہارا خط آیا ہم تو جان بیٹھے تھے ہم تو مان بیٹھے تھے تیری طلعتِ زیبا تیرا دید کا وعدہ تیری زلف کی خوشبو دشتِ دور کے آہو سب فریب سب مایا پھر تمہارا خط آیا…
Read More