کشور ناہید کشور ناہید کی ابتدائی شاعری میں رومان انگیزی، محبت کی خواب ناک کیفیات اور کسی حد تک جنسی محرومیاں نمایاں تھیں۔بعد ازاں ’’عروسی‘‘ اور ’’رات آتی ہے‘‘ جیسی نظموں میںعورت کی تشنہ آرزوئیں جھلکتی محسوس ہوتی ہیں۔گویا تجربات و مشاہدات میں اضافے کے ساتھ انہوں نے عورت کی نفسیاتی گتھیوں کو بھی سمجھاجو اُن کی تخلیقات کا اہم موضوع بھی بنا۔کشور ناہید کا تخلیقی کینوس اکثر ہم عصروں سے زیادہ وسیع ہے، اِس لیے کہ مغربی ادب پر بھی اُن کی نظر ہے مگر وہ مشرقی ذہن سے…
Read MoreTag: Kishwar Naheed
کشور ناہید
اے چارہ گرو یہ چارہ گری اک ڈھونگ ہے دل بہلاوے کا حالات کو اور الجھانے کو کیوں ہم پہ کرم فرماؤ جی
Read Moreکشور ناہید
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں، تماشا ہی نہ ہو راس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو
Read More