قریہ ساکنانِ گم گشتہ ڈھونڈ اب خاکدانِ گم گشتہ تو بھی ہو اب غبارِ راہ گزر مل چکا کاروانِ گم گشتہ آ ،فرامش گہِ وجود میں سن بازگشتِ اذانِ گم گشتہ فرس و تیغ و تیر و زین و زرہ لٹ رہی ہے دکانِ گم گشتہ کس ہدف کی طرف روانہ ہے؟ یہ خدنگِ کمانِ گم گشتہ دیکھ کیا کیا سدھر گئے ہیں ہم دیکھ اے بدگمانِ گم گشتہ! ** بس نکلنے کو ہوں تری جانب اے مرے آسمان گم گشتہ! (**اس شعر کی چال کہہ لیں یا تیور، اجمل…
Read MoreMonth: 2021 جون
شناور اسحاق … بازیافت
بازیافت ……….. آج کا دن عجب جشن بر دوش دن تھا اگر بانوئے سر خوشی آنا چاہے ملاقات کے کتنے اسلوب رکھتی ہے جیسے ۔۔۔ کسی نیلوفر کا بہایا ہوا تختہِ گل کہیں نے بہ لب ہجر کے پاؤں سے جا لگے یاکسی پدمنی کا ہوا میں اڑایا ہوا نامہ بر اجنبی سر زمیں پر سوئمبر رچانے لگے جیسے روتا ہوا طفل یکبارگی ہنس پڑے جیسے کھلیان کو گھورتے ابر پارے کی گدی پہ چنچل ہوا کا طمانچہ پڑے یہ پورب نے آج آفتابی شعاعوں پہ کیا اسم اعظم پڑھا…
Read Moreشناور اسحاق
ہمارے خواب شکستہ ظروف کے مانند حویلیوں کے عقب میں پڑے ہوئے ہیں یہاں
Read Moreنعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔شناور اسحاق
حریفِ سیلِ بلا، بادبانِ رحمت ہے بہ روئے گیتی، مدینہ، نشانِ رحمت ہے رواں ہے سوئے ابد کارواں توکل کا سروں پہ سایہ فگن آسمانِ رحمت ہے مجال ہے کوئی میلی نظر سے دیکھ سکے یہ برق وباد ہے، یہ آشیانِ رحمت ہے ہمارا علم زبون وخجل نہیں رہتا الف کے بعد زمان ومکانِ رحمت ہے یہ دہر کیاہے؟ فقط راستوں کا جنگل ہے "حضور آپ کا اسوہ جہان رحمت ہے”
Read Moreحمدِ باری تعالیٰ ۔۔۔ محمد خالد کھوکھر
یہ رنگ و نور، مکین و مکاں تجھی سے ہیں عطا کے چشمے ہیں جتنے یہاں، تجھی سے ہیں ہیں تیرے دم سے زمانوں میں رنگ یہ سارے محبتیں بھی لہو میں رواں تجھی سے ہیں مری جبیں پہ ہے جتنی چمک سجود سے ہے عقیدتوں کے یہ سارے نشاں تجھی سے ہیں ترے وجود سے ہیں سلسلے جہانوں کے وہ تارے جن سے ہیں روشن زماں ،تجھی سے ہیں یہ نیلے گہرے سمندر، یہ جھیل، یہ دریا یہ آ بشار، یہ آبِ رواں تجھی سے ہیں
Read Moreخالد کھوکھر
کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے عجیب ڈر ہے ڈرا ہوا ہوں میں اپنے ڈر سے عجیب ڈر ہے
Read Moreخالد کھوکھر ۔۔۔ کوئی بھی بات بتانے کا حوصلہ نہیں ہے
کوئی بھی بات بتانے کا حوصلہ نہیں ہے اُسے دوبارہ منانے کا حوصلہ نہیں ہے تمہارے آنسو مرے دل پہ آ کے گرتے ہیں تمہیں اب اور رُلانے کا حوصلہ نہیں ہے میں اُس سے دُور، بہت دُور جانا چاہتا ہوں مگر یہ سچ ہے کہ جانے کا حوصلہ نہیں ہے میں احتجاج بھی کرتا ہوں ضبط کی لَے میں کہ مجھ میں شور مچانے کا حوصلہ نہیں ہے سوال! ظلم کو زنجیر ڈال سکتا ہے جواب! اتنا زمانے کا حوصلہ نہیں ہے چھپا کے رکھے ہوئے ہیں وہ آج…
Read Moreخالد کھوکھر … یہ فسانہ نہیں حقیقت ہے
یہ فسانہ نہیں حقیقت ہے عشق ہر دور کی ضرورت ہے جھوٹ، دھوکہ، فریب، عیاری ہر قدم پر نئی سیاست ہے آ ج بے حد نڈھال ہوں غم سے مجھ کو تیری اشد ضرورت ہے پاؤں زخمی ، سراب چاروں طرف پھر بھی دل میں سفر کی حسرت ہے اہل ِ دل کیسے سُرخرو ہوں گے اہل ِ زر کی یہاں حکومت ہے شاخ ِ امید بے ثمر ہی سہی زندگی پھر بھی خوبصورت ہے شعر دل میں اُترتے ہیں خالد میرے الفاظ میں محبت ہے
Read Moreمحمد افتخار شفیع
محمد افتخار شفیع ۔۔۔ شاعری میں سراپا نگاری کا تہذیبی و تمدنی زاویہ
شاعری میں سراپا نگاری کا تہذیبی و تمدنی زاویہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تہذیب، تمدن، ثقافت، کلچر چاروں اصطلاحیں ہم معنی تو نہیں لیکن ان میں بہت سے اشتراکات ہیں۔کلچر ایک نقطۂ نظر ہے، اس نقطۂ نظر کو عملی صورت تہذیب کی شکل میں دی جاتی ہے۔ ثقافت فنونِ لطیفہ کے ذریعے اظہار کی عملی صورت گری ہے لیکن اس میں طرزِ تعمیر، رہن سہن، رسوم و رواج بھی شامل ہیں۔’’ تمدن‘‘ کا تعلق زندگی گزارنے کے وضع کردہ اصولوں سے ہے۔ اس کے لیے انگریزی میں Civilization کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔…
Read More