لئے چلا ہو کوئی اپنے ساتھ ساتھ مجھے اور ایک رشک سے تکتی ہو کائنات مجھے فروغِ عشقِ پیمبر ہو زندگی میری ورود ِاسم محمد ؐسے ہو نشاط مجھے سنا تھا ذکر مدینے کے اک سخنور کا پھر اس کے بعد نہ بھائی کسی کی بات مجھے خدا جو دے ہنرِ عرضِ حالِ دل رحمان تو ایک نعت ہو کافی پئے ثبات مجھے اسی صدا کے تعاقب میں چل پڑا میں حفیظ پکارتی ہی رہی ساری کائنات مجھے
Read MoreMonth: 2021 جون
رحمان حفیظ
بہا کے لے گیا سب خدّو خال ِ عہدِ شباب ہم آئنے کو بھی آبِ رواں سمجھتے ہیں
Read Moreرحمان حفیظ ۔۔۔ ہمارے حق میں کسی کے جفر، رمل کوئی نئیں
ہمارے حق میں کسی کے جفر، رمل کوئی نئیں جو اہلِ دل کے مسائل ہیں ، ان کا حل کوئی نہیں عجیب شہر میں میرا جنم ہوا ہے جہاں بدی کا حل کوئی نئیں، نیکیوں کا پھل کوئی نئیں مرا سخن، مرا فن دوسروں کی خاطر ہے درخت ہوں ، مِری قسمت میں اپنا پھل کوئی نئیں ہم اہلِ فکر و نظر جس میں جینا چاہتے ہیں جہانِ گِل ! تری تقویم میں وہ پَل کوئی نئیں مِرے لئے نہ رکے کوئی موجِِ استقبال میں رزقِ لمحہ ء حاضر ہوں،…
Read Moreمحمد خالد کھوکھر
شناور اسحاق
شبیر نازش
شبیر نازش
میرے کفن کے بند نہ باندھو، ابھی مجھے مِلنا ہے ایک شخص سے بانہیں نکال کر
Read Moreشبیر نازش ۔۔۔ رکی ہوئی ہیں گردشیں، نظام چل نہیں رہا
رکی ہوئی ہیں گردشیں، نظام چل نہیں رہا گیا وہ جب سے چھوڑ کے، سمے بدل نہیں رہا ہر ایک شے ہے آس پاس جوں کی توں رواں دواں مگر مری گرفت میں وہ ایک پل نہیں رہا میانِ وصل، یک نفس وہ یوں کھلا کہ اس گھڑی ابد ابد نہیں رہا، ازل ازل نہیں رہا نفس نفس حکایتیں، زباں زباں روایتیں سِوا ہے علم ہر کہیں مگر عمل نہیں رہا خدا کرے کہ وہم ہو، خدا کرے کہ خیر ہو بہت دنوں سے اس طرف چراغ جل نہیں رہا…
Read Moreشبیر نازش ۔۔۔ وقت کی اوٹ سے
وقت کی اوٹ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مَیں نے دیکھا اُسے اُس کے لرزیدہ ہونٹوں پہ پَپڑی کی تہہ میں ابھی تک مرا لَمس تازہ ہی تھا دودھیائی ہوئی اُس کی آنکھوں کے پیچھے مرا عکس شفّاف تھا جھریوں سے بھرے ماند پڑتے ہوئے اُس کے رُخسار پر جو کبھی سُرخ تھے آنسوؤں کی گزرگاہ کے پاس ابھی تک وہ بوسہ حیا سے گلابی گلابی سا تھا عشق میں اِنتظار اورصبر کے بار سے سروقامت سراپا خمیدہ ہُوا جا رہا تھا مگر اِنتظار ایسے کھینچا گیا جیسے پیوست نیزے کو مضبوط ہاتھوں…
Read Moreنعت رسولِ مقبول ﷺ … شبیر نازش
رُوح مکہ،دل مدینہ چاہیے جینا ایسا ہو تو جینا چاہیے آپ ﷺ تو ہر دل میں ہیں جلوہ نما دیکھنے کو چشمِ بینا چاہیے آپ ﷺ کے حسنِ عمل کا درس ہے اپنی گدڑی آپ سینا چاہیے جنت الفردوس کی تکمیل کو جسمِ اطہر کا پسینہ چاہیے چاہیے اُن ﷺ کی غلامی کا شرف کب مجھے کوئی خزینہ چاہیے نعت کہنے کو تو کہتے ہیں مگر نعت کہنے کو قرینہ چاہیے روضۂ اقدس پہ نازش! حاضری دم بہ دم، زینہ بہ زینہ چاہیے
Read More