نعیم رضا بھٹی ۔۔۔ ایسے ملفوف ہے جھلک اس کی

ایسے ملفوف ہے جھلک اس کی مجھ پہ کھلتی نہیں مہک اس کی یہ ضروری نہیں شرر ہی ہو عین ممکن ہے ہو چمک اس کی بیٹھے بیٹھے خیال ٹوٹ گیا اور جکڑتی گئی کھنک اس کی اس ہنسی کے لیے تڑپتا ہوں کن اندھیروں میں ہے دھنک اس کی مرنے والے کو کون بتلائے خون کا اشک ہے کسک اس کی

Read More

نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ نعیم رضا بھٹی

خدا کا در ہے درِمصطفٰی، درود پڑھو! کہ دستکوں نے بھی جھک کر کہا ، درود پڑھو! انہی کی مدح پہ مامور سب کی خوش سخنی وہی ہیں منبع ِ صدق و صفا، درود پڑھو! جو مانتے ہیں سمجھتے ہیں مرتبہ ان کا خدا کا حکم ہے صل ِعلی درود پڑھو! کسی بھی وقت ، کہیں بھی ، بلا ضرورت بھی تم ابتدا سے سر ِانتہا،  درود پڑھو! ہماری سانس، معافی کا اک وسیلہ ہے کہ ہو کے ذکر سے پہلے ذرا ، درود پڑھو! میں تھک کے ٹوٹ گروں…

Read More

نعیم رضا بھٹی ۔۔۔ نظم

اے ربِ تقدس تری تقدیس کے مارے سجدے میں رگڑتے ہیں جبینوں کے ستارے سیارہِ تقدیر سفر کھینچ رہا ہے لا وقت  تدبر سے اثر کھینچ رہا ہے کس حال میں ہم عقدہ کشاں دیکھ رہے ہیں تجھ بھید کا کھلنا بھی تو ہے کھلنا ہمارا اے سرِ زماں لفظ کی توقیر کے صدقے تاثیر بس اک نکتہء ملفوف سے نکلے اور طُور کے اس پار تجلی کی نمو ہو

Read More

اُردو زبان ۔۔۔ شاعر علی شاعر

چرچا ہر ایک آن ہے اُردو زبان کا گرویدہ کُل جہان ہے اُردو زبان کا اِس لشکری زبان کی عظمت نہ پوچھیے عظمت تو خود نشان ہے اُردو زبان کا گم نامیوں کی دھوپ میں جلتا نہیں کبھی جس سر پہ سائبان ہے اُردو زبان کا مشرق کا گلستاں ہو کہ مغرب کا آشیاں ویران کب مکان ہے اُردو زبان کا سوداؔ و میرؔ و غالبؔ و اقبالؔ دیکھ لو ہر ایک پاسبان ہے اُردو زبان کا اُردو زبان میں ہے گُھلی شہد سی مٹھاس لہجہ بھی مہربان ہے اُردو…

Read More

شاعر علی شاعر ۔۔۔ گردِ ملال چہرے پہ مَلتا رہا ہوں مَیں

گردِ ملال چہرے پہ مَلتا رہا ہوں مَیں سڑکوں پہ دھوپ اوڑھ کے چلتا رہا ہوں مَیں کارِ ہنر ہے کوئی نہ کارِ نمایاں کچھ سائے کا کام ڈھلنا ہے ڈھلتا رہا ہوں مَیں وعدہ ہوں اور وعدے کی تقدیر کی طرح فردا کے روز روز پہ ٹلتا رہا ہوں مَیں دنیا کی ٹھوکروں نے ہی جینا سکھایا ہے رہ رہ کے تیرگی میں اُجلتا رہا ہوں مَیں دیوار و در میں قید رہا ساری زندگی کہنے کو روز گھر سے نکلتا رہا ہوں مَیں اوروں کا دو قدم بھی…

Read More

نعتِ رسولِ اکرم ﷺ … شاعرعلی شاعر

نظر کے سامنے رب کا صحیفہ رہتا ہے نبیؐ کے نام کا لب پر وظیفہ رہتا ہے رسولِ پاکؐ ہیں سرکار دو جہانوں کے سکون ملتا ہے اُن کا کلام پڑھتے ہوئے دردو پڑھتے ہوئے اور سلام پڑھتے ہوئے ہمارے واسطے کعبہ بھی ہے، مدینہ بھی ہمارے سامنے منزل بھی ہے، سفینہ بھی بیانِ سیرتِ سرکارؐ دل کو بھاتا ہے خرام کرتے ہیں زائر سلام پڑھتے ہوئے دردو پڑھتے ہوئے اور سلام پڑھتے ہوئے ضیائے نورِ نبیؐ دو جہاں میں پھیلی ہے گھٹائے زلفِ نبیؐ ہم پہ کھل کے برسی…

Read More