یہ میرا دل تو مرے پاؤں پڑ گیا کل شام یہ مجھ سے بڑھ کے ترے ہاں رسائی چاہتا ہے
Read MoreMonth: 2021 جون
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
شب پہ فتح پانی ہے، آرزو جگانی ہے میری اور سورج کی ایک ہی کہانی ہے
Read Moreڈاکٹر اشفاق احمد ورک ۔۔۔ ہمارا جسم بھی ہم سے رہائی چاہتا ہے
ہمارا جسم بھی ہم سے رہائی چاہتا ہےنمودِ خاک ہے لیکن خدائی چاہتا ہےاسیرِ نفس ہے کوئی کہ خواہشوں کا غلامہر ایک شخص یہاں پارسائی چاہتا ہےمکانِ جسم پہ اِس دل کی دستکیں بھی سنوخوشی سے رقص میں ہے یا رہائی چاہتا ہےیہ میرا دل تو مِرے پاؤں پڑ گیا کل شامیہ مجھ سے بڑھ کے تِرے ہاں رسائی چاہتا ہےہے مختصر کہ مِرا دل اُداس رہتا ہےوفا کے قحط میں یہ دل رُبائی چاہتا ہے
Read Moreڈاکٹر اشفاق احمد ورک ۔۔۔ قسمت کی تصویر بنانا آتی ہے
قسمت کی تصویر بنانا آتی ہے ہاں مجھ کو تقدیر بنانا آتی ہے خواب نگر کا رستہ مجھ کو ازبر ہے سپنوں سے تعبیر بنانا آتی ہے اس نے چہرہ چاند کے ہاتھوں بھیجا ہے کس کس کو تصویر بنانا آتی ہے پھول تو اس کا پانی بھرنے آتے ہیں پھولوں کو توقیر بنانا آتی ہے شعر بھی اس کاکلمہ پڑھنےلگتے ہیں جس کو طرزِ میر بنانا آتی ہے سخنوری کوئی کھیل نہیں ہےہم نفسو لفظوں سے شمشیر بنانا آتی ہے؟ وارث شاہ کو سخن کاوارث کہتے ہیں وارث شاہ…
Read Moreواجد امیر
میں گر پڑا تو اُٹھانے کا فائدہ مرے دوست! جو تھامنے ہیں تو پھر تھام لے ابھی مرے ہاتھ
Read Moreنعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ واجد امیر
مرا سُخن مرا حُسنِ کلام اُن کے لیے ہُنر میں جوہے وہ سب دام دام اُن کے لیے سحر کا غلغلہ ہنگامِ شام اُن کے لیے ہے بود و ہست کا سب اہتمام اُن کے لیے شِکوہ و شان اُنہیں کس طرح کرے مرعوب جب ایک جیسے ہیں سب خاص و عام اُن کے لیے پلٹ دیا گیا رفتارِ وقت کا برتن اُلٹ دیا گیا سارا نظام اُن کے لیے چمک اُنہی کے لیے مہر وماہ میں رکھی سجایا کاہکشاؤں کا بام اُن کے لیے کسی کی مسندِ خالی پہ…
Read Moreواجد امیر … بُجھے ہوئے تھے کئی دل چراغ جَل رہے تھے
بُجھے ہوئے تھے کئی دل چراغ جَل رہے تھے ہم اپنے چہرے نہیں آئینے بدل رہے تھے کوئی وہاں سے مکاں چھوڑ کر چلا گیا تھا ہم اُس گلی میں بہت دور تک نکل گئے تھے زمیں ، زمانہ ،زیاں کی زبان بولتا تھا یقیں کی ڈور میں اُلجھے گُماں پھسل رہے تھے ہوائیں مِل کے اندھیرے سے بین کررہی تھیں چراغ اپنی لَویں تھام کر سنبھل رہے تھے کسی کا حُسن بہت پاس سے بُلا رہا تھا کسی کے دِل کو کئی مسئلے مسَل رہے تھے کوئی کنویں سے…
Read Moreواجد امیر ۔۔۔ جنگِ آزادی یا غدر
جنگِ آزادی یا غدر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدا میرٹھ سے اُٹّھی تھی جہاں کے سرفروشوں نے یہاں کے غاصبوں اور تاجروں کے بھیس میں آئے درندوں ، کالے کوسوں ، اجنبی دیسوں سے گور ی چمڑی والے ، بے نسب ، مجہول اور مغرور، اکڑی گردنوں والوں کے آگے اِک خطِ انکار کھینچا تھا ہوا میرٹھ سے اُٹّھی تھی کہ جس نے حبس موسم ، بے ثمر لمحوں ، سُلگتی ٹوٹتی، بکھری ہوئی سانسوں کی اک ڈوری میں باندھاتھا صدا ہر دل سے اُٹھی تھی تو پھر منگل نے اک ٹوٹی ہوئی…
Read Moreنعیم رضا بھٹی
نعیم رضا بھٹی
تجھ سے مرا وجود سنبھالا نہ جا سکا میں نے ترا غبار بھی رکھا سمیٹ کر
Read More