واجد امیر ۔۔۔ کیوں ساتھ ہی پھرتی ہے پریشانی ہماری

کیوں ساتھ ہی پھرتی ہے پریشانی ہماری کس نے اسے سونپی ہے نگہبانی ہماری سجدوں سے لپٹتی ہوئی پیشانی ہماری پلکوں سے گراتی ہے پشیمانی ہماری دیکھا نہ کبھی ہم ہیں یہیں پاس تمہارے دیکھی نہ کبھی چاک گریبانی ہماری کچھ لوگ محبت سے ہمیں دیکھ رہے ہیں اک پَل کو سہی، ہے تویہ سلطانی ہماری منظر کوئی میعارِ نظر تک نہیں پہنچا آنکھوں میں پڑی رہ گئی حیرانی ہماری اِک سانس کی بھی خودسے رعایت نہیں کرنی ہم پر ہی نہ چڑھ دوڑے یہ طغیانی ہماری سب عقل دھری…

Read More

واجد امیر ۔۔۔ نہ دوریوں کی خجالت نہ قربتوں میں قریب

نہ دوریوں کی خجالت نہ قربتوں میں قریب پڑا ہُوا ہے یونہی دل میں دشتِ بے ترتیب یونہی رہے گی سدا کشمکش تو یوں ہی سہی ہَوا کا اپنا مقدر ، دیے کا اپنا نصیب عجیب صحن ہے بارش نہ دھوپ کچھ بھی نہیں نہ دن ،نہ رات، وہی جھٹ پٹے کے سائے مہیب نہ کچھ بُرائی مکمل ، نہ خیر میں کامل ہوئی خراب کہاں خیر و شَر کی یہ ترتیب سُنانے والا کوئی اور نہ سُننے والا کوئی ہم آپ اپنے مخاطب، ہم آپ اپنے خطیب پڑا تھا…

Read More

واجد امیر ۔۔۔ حمد باری تعالی

کیسے مرے محدود سے وجدان میں آئے کیسے وہ بھلا عقل کے جُزدان میں آئے بے شک نہ کبھی وہ مری پہچان میں آئے کچھ عکس کبھی دیدۂ حیران میں آئے انسان اگر سب ترا انکار بھی کردیں کچھ فرق نہ اللہ تری شان میں آئے تشکیک کا دھبہ نہ لگے دل کے وَرق پر کیوں نقص زرا سا مرے ایمان میں آئے اِک خوف رگوں میں جو اُتارے ہے تکاثر اِک کیف الگ سورۂ رحمٰن میں آئے دیتا ہے تسلّی کوئی اندیکھا مسیحا وسواس اگر کچھ دلِ نادان میں…

Read More

نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ واجد امیر

مرا سُخن مرا حُسنِ کلام اُن کے لیے ہُنر میں جوہے وہ سب دام دام اُن کے لیے سحر کا غلغلہ ہنگامِ شام اُن کے لیے ہے بود و ہست کا سب اہتمام اُن کے لیے شِکوہ و شان اُنہیں کس طرح کرے مرعوب جب ایک جیسے ہیں سب خاص و عام اُن کے لیے پلٹ دیا گیا رفتارِ وقت کا برتن اُلٹ دیا گیا سارا نظام اُن کے لیے چمک اُنہی کے لیے مہر وماہ میں رکھی سجایا کاہکشاؤں کا بام اُن کے لیے کسی کی مسندِ خالی پہ…

Read More

واجد امیر … بُجھے ہوئے تھے کئی دل چراغ جَل رہے تھے

بُجھے ہوئے تھے کئی دل چراغ جَل رہے تھے ہم اپنے چہرے نہیں آئینے بدل رہے تھے کوئی وہاں سے مکاں چھوڑ کر چلا گیا تھا ہم اُس گلی میں بہت دور تک نکل گئے تھے زمیں ، زمانہ ،زیاں کی زبان بولتا تھا یقیں کی ڈور میں اُلجھے گُماں پھسل رہے تھے ہوائیں مِل کے اندھیرے سے بین کررہی تھیں چراغ اپنی لَویں تھام کر سنبھل رہے تھے کسی کا حُسن بہت پاس سے بُلا رہا تھا کسی کے دِل کو کئی مسئلے مسَل رہے تھے کوئی کنویں سے…

Read More

واجد امیر ۔۔۔ جنگِ آزادی یا غدر

جنگِ آزادی یا غدر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدا میرٹھ سے اُٹّھی تھی جہاں کے سرفروشوں نے یہاں کے غاصبوں اور تاجروں کے بھیس میں آئے درندوں ، کالے کوسوں ، اجنبی دیسوں سے گور ی چمڑی والے ، بے نسب ، مجہول اور مغرور، اکڑی گردنوں والوں کے آگے اِک خطِ انکار کھینچا تھا ہوا میرٹھ سے اُٹّھی تھی کہ جس نے حبس موسم ، بے ثمر لمحوں ، سُلگتی ٹوٹتی، بکھری ہوئی سانسوں کی اک ڈوری میں باندھاتھا صدا ہر دل سے اُٹھی تھی تو پھر منگل نے اک ٹوٹی ہوئی…

Read More

اَمّی کے لیے ۔۔۔ واجد امیر

اَمّی کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بدن اب سرد ہوتا جارہا ہے کوئی عہدِ گذشتہ آنے والی ساعتوں کی گرد ہوتا جارہا ہے لہو اب جم رہا ہے رگوں میں دوڑتا سیال آخر تھم رہا ہے زباں بے ذائقہ محلول سے مانوس کیسے ہو زباں! بے ربط جملوں اور پھر ٹوٹے ہوئے لفظوں سے آ گے کچھ نہیں کہتی زباں خاموش رہتی ہے کئی مہمل سوالوں کا جواب اک جنبشِ سر سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا یہ جب ہوتا ہے جب دل میں ارادہ کچھ نہیں ہوتا لبوں پر پپڑیاں سی جم…

Read More