کیوں ساتھ ہی پھرتی ہے پریشانی ہماری کس نے اسے سونپی ہے نگہبانی ہماری سجدوں سے لپٹتی ہوئی پیشانی ہماری پلکوں سے گراتی ہے پشیمانی ہماری دیکھا نہ کبھی ہم ہیں یہیں پاس تمہارے دیکھی نہ کبھی چاک گریبانی ہماری کچھ لوگ محبت سے ہمیں دیکھ رہے ہیں اک پَل کو سہی، ہے تویہ سلطانی ہماری منظر کوئی میعارِ نظر تک نہیں پہنچا آنکھوں میں پڑی رہ گئی حیرانی ہماری اِک سانس کی بھی خودسے رعایت نہیں کرنی ہم پر ہی نہ چڑھ دوڑے یہ طغیانی ہماری سب عقل دھری…
Read MoreTag: واجد امیر کی شاعری
واجد امیر ۔۔۔ حمد باری تعالی
کیسے مرے محدود سے وجدان میں آئے کیسے وہ بھلا عقل کے جُزدان میں آئے بے شک نہ کبھی وہ مری پہچان میں آئے کچھ عکس کبھی دیدۂ حیران میں آئے انسان اگر سب ترا انکار بھی کردیں کچھ فرق نہ اللہ تری شان میں آئے تشکیک کا دھبہ نہ لگے دل کے وَرق پر کیوں نقص زرا سا مرے ایمان میں آئے اِک خوف رگوں میں جو اُتارے ہے تکاثر اِک کیف الگ سورۂ رحمٰن میں آئے دیتا ہے تسلّی کوئی اندیکھا مسیحا وسواس اگر کچھ دلِ نادان میں…
Read Moreاَمّی کے لیے ۔۔۔ واجد امیر
اَمّی کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بدن اب سرد ہوتا جارہا ہے کوئی عہدِ گذشتہ آنے والی ساعتوں کی گرد ہوتا جارہا ہے لہو اب جم رہا ہے رگوں میں دوڑتا سیال آخر تھم رہا ہے زباں بے ذائقہ محلول سے مانوس کیسے ہو زباں! بے ربط جملوں اور پھر ٹوٹے ہوئے لفظوں سے آ گے کچھ نہیں کہتی زباں خاموش رہتی ہے کئی مہمل سوالوں کا جواب اک جنبشِ سر سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا یہ جب ہوتا ہے جب دل میں ارادہ کچھ نہیں ہوتا لبوں پر پپڑیاں سی جم…
Read More