رکھتے نہیں جو ناسخ و منسوخ کی خبر ایسے مورخین کہاں کے ہیں معتبر ملتا ہے یوں بھی کوششِ بے سود کا صلہ ہر بار مجھ سے رہ گئی اک آنچ کی کسر ڈرتا ہوں اس یقین پہ بجلی نہ گر پڑے کوفے سے آ رہی ہے کوئی خیر کی خبر ہنگامہ ہر کہیں ہے طلوع و غروب کا کٹتی رہے گی زندگی کیا شام کیا سحر کیوں بے خبر ہے عمرِ خضر کے مآل سے کن واہموں میں غرق ہے اے عمرِ مختصر ہر واہمے کو خانۂ دل سے…
Read MoreMonth: 2022 مارچ
سحر تاب رومانی ۔۔۔ پیڑ سے جھڑتے ہوئے اِن پات سے
پیڑ سے جھڑتے ہوئے اِن پات سے بات پیدا کر رہا ہوں بات سے زندگی جیسے کوئی خالی مکاں اور میں بھرپور امکانات سے آنکھ میری تھی برسنا چاہتی مسئلہ تھا شہر کو برسات سے ایک دن پھر قحط پیدا ہو گیا میرے گھر میں رزق کی بہتات سے خواب میں بیٹھا ہوں اک اونچی جگہ دل پریشاں ہے مِرا کل رات سے مغز ماری کون کرتا اِس قدر میں نے سمجھوتا کیا حالات سے دیکھیے اب جیت کس کی ہوتی ہے چھیڑ دی ہے جنگ اپنی ذات سے کیوں…
Read Moreکاشف حسین غائر ۔۔۔ حبس ہے مجھ میں سوا، آج ہوا آئی نہیں
حبس ہے مجھ میں سوا، آج ہوا آئی نہیں روز آتی تھی ہوا، آج ہوا آئی نہیں دو دیے جلتے رہے، جلتے رہے اور آخر اک نے دوجے سے کہا، آج ہوا آئی نہیں میں نے کل خواب میں دیکھا تھا اسے آتے ہوئے یہی تعبیر ہے کیا،آج ہوا آئی نہیں اک ہوا اور بھی آتی ہے یہاں شام کے بعد آج اسے علم ہوا، آج ہوا آئی نہیں ایک بس میرے محلے کا ہی مذکور ہے کیا جانے کتنی ہی جگہ، آج ہوا آئی نہیں دیدنی ہے سبھی پیڑوں…
Read Moreمحمد اکبر خان اکبر ۔۔۔ پرچم تلے(ثمینہ تبسم)
کتاب: پرچم تلےمصنفہ: ثمینہ تبسمتبصرہ نگار: محمد اکبر خان اکبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چند روز قبل کینڈا میں مقیم معروف شاعرہ اور مصنفہ محترمہ ثمینہ تبسم کی جانب سے ان کی چند گراں قدر تصانیف موصول ہوئیں جن میں اول اول’’پرچم تلے‘‘ کے مطالعے کا آغاز اپنی پسندیدہ صنف ادب سوانح عمری اور آپ بیتی سے متاثر ہو کر کیا تو معلوم ہوا کہ محترمہ ثمینہ تبسم صاحبہ تو اعلی پائے کی نثر نگار بھی ہیں۔کتاب ’’پرچم تلے‘‘ ایک ایسی ہی کتھا ہے جسے شروع کر کے رکھنا محال ہے جب تک مکمل…
Read More