”تذکرہ نگار کہتا ہے کہ وہ صرف ان شاعروں کا ذکر کرے گا جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ اُن کی تکنیک نئی ہوگی اور اُن کی شاعری شہری زندگی سے طلوع ہوگی مگر اُن کے گھروں کے سامنے ”شجرة الکون“ ہوگا یا گو تم کا درخت۔ اُن کے لفظ کبھی بہار کے پتوں کی طرح سبز اور کبھی خزاں کے پتوں کی طرح زرد ہوں گے“۔ یہ قمر جمیل کی نثری نظم ”تذکرہ گلشنِ جدید“ ایک اقتباس ہے۔ اِس نظم پر گفتگو کرنے سے قبل آئیے ذرا قمر جمیل کے…
Read MoreMonth: 2023 جنوری
چاچا ناشکرا …. سیمیں کرن
”لو بھئی ایتھوں بنٹھو، ہُن کوئی نئیں گل کرسگدا، جھیڑا کرلے گا اور ھسے گا، تے نالے فتویٰ سنے گا۔“ چاچا نورنے نے اپنی لُنگی سنبھالی اور یہ کہتے ہوئے تیزی سے موقعے سے ٹلنے کو عافیت جانی۔ سامنے سے چاچا ناشکرا آرہا تھا۔ چاچا ناشکرا بھی اپنی جگہ اک بڑی دلچسپ، رونقی اور مجلسی شخصیت تھا۔ بولتا توتوجہ مبذول کرنے کا گفتگو کو دلچسپ رُخ دینے کا ماہر تھا۔ کچھ لوگ اُس بات پر آمناً و صدقاً کہہ دیتے۔ ہاں میں ہاں ملاتے۔کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو چاچا…
Read Moreاسلوبیات کی افہام و تفہیم ۔۔۔۔ مرزا خلیل احمد بیگ
اس مقالے کا مقصد قارئین کو ادبی تنقید کے ایک نئے رجحان یا دبستان سے روشناس کرانا ہے جسے اسلوبیات کہتے ہیں۔ اس میں جو نکات پیش کئے گئے ہیں وہ یہ ہیں: زبان، ادب کا ذریعہ اظہار ہوتی ہے۔ زبان اور ادب کے درمیان گہرا رشتہ پایا جاتا ہے۔ زبان کے مخصوص استعمال سے کسی ادیب کے اسلوب (Style)کی تشکیل عمل میں آتی ہے۔اسلوب کا مطالعہ اور تجزیہ اسلوبیات کہلاتا ہے جسے ’اسلوبیاتی تنقید‘ بھی کہتے ہیں ۔ اسلوبیات کی بنیاد لسانیات (Linguistics)پر قائم ہے۔ اسلوبیاتی طریقہ کار معروضی،…
Read Moreمحسن اسرار
جل جانے سے ڈرتے ہو تم نے جل کر دیکھا بھی
Read Moreقابل اجمیری
ہنسی معلوم ہوتی ہے فغاں معلوم ہوتی ہے محبت زندگی کی داستاں معلوم ہوتی ہے
Read Moreآہ سنبھلی
خدا کرے کہ سنے تو زبان خاموشی ترے پڑوس میں کچھ بے زبان رہتے ہیں
Read Moreعالم نظامی
اس سے بڑھ کر کوئی محتاج نہیں ہو سکتا گر کے جو شخص سنبھلنے کا ارادہ نہ کرے
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا
مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا داغ ہوں رشکِ محبت سے کہ اتنا بے تاب کس کی تسکیں کے لیے گھر سے تُو باہر نکلا جیتے جی آہ ترے کوچے سے کوئی نہ پھرا جو ستم دیدہ رہا جاکے سو مر کر نکلا دل کی آبادی کی اس حد ہے خرابی کہ نہ پوچھ جانا جاتا ہے کہ اس راہ سے لشکر نکلا اشکِ تر قطرۂ خوں لختِ جگر پارۂ دل ایک سے ایک عدو آنکھ سے بہتر…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ میں اٹھ گیا تو شورِ فغاں بھی نہیں اُٹھا
میں اٹھ گیا تو شورِ فغاں بھی نہیں اُٹھا لیکن کرائے پر وہ مکاں بھی نہیں اٹھا مذہب نہیں بتایا نہ امداد کی قبول کشتی میں اک حبابِ رواں بھی نہیں اُٹھا بستی جلانے والو تمھیں کیا بتاؤں میں مدّت سے میرے گھر میں دھواں بھی نہیں اُٹھا ہم دم بخود تھے اور ادھر لُٹ رہے تھے لوگ جب ہم کٹے تو شور و ہاں بھی نہیں اُٹھا بڑھتے ہوئے قدم کو نہیں روکتا کوئی بیٹھا تو پھر قدم کا نشاں بھی نہیں اُٹھا
Read Moreضامن جعفری کی ”ریش خند“ شاعری: خصوصی مضمون …. ستیہ پال آنند
طنزاور وہ بھی ”ریش خند طنز“ ایک مشکل صنفِ ادب ہے۔ اس میں ہتک، قدح، بد گوئی کی گنجائش نہیں۔ اس میں مشمولہ ہنسی اور خندہ زنی کے عناصر اسے ترچھا پن اور اس ترچھے پن کی کند چھُری کی کاٹ تو عطا کرتے ہیں، لیکن عیب گیری اور چشم نمائی سے دور رکھتے ہیں۔اہل قلم نے اردو نثر میں جب اسے رواج دیا تو ’انشایئہ ‘ یا’خاکہ‘ کی اصناف ادب نے اسے خود میں جذب کر لیا۔ ذات اور واردات کے حوالوں سے کسی بھی منظر نامے کو یا…
Read More