یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا ہے وظیفہ مجھ دلِ بیمار کا
Read MoreMonth: 2025 مارچ
سعادت یار خان رنگین
میری ایذا میں خوشی جب آپ کی پاتے ہیں لوگ تو مجھے کس کس طرح سے آ کے دھمکاتے ہیں لوگ
Read Moreوزیر آغا ۔۔۔ پیش گوئی
پیش گوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہنسی کھوکھلی سی ہنسی اور پوتھی پہ اک ہاتھ رکھ کر مجھے گھور کر گنگنایا یہاں سے وہاں تک مجھے ایک بھی سبز پتہ دکھائی نہیں دے رہا ایک بھی بانسری کی مدھر تان پانی کی گاگر کے نیچے چھلکتی ہوئی وحشی ہرنی سی آنکھیں کوئی ایک چمکیلا آنسو بھی باقی نہیں ہے دھواں راکھ اور خون دھرتی کی اجڑی ہوئی کوکھ میں چند جھلسی ہوئی ہڈیاں ادھ جلے پریم پتروں کے ڈھانچے درختوں کی لاشیں مکانوں کی اڑتی ہوئی دھجیاں سونے رستوں پہ پھرتی ہوئی کھوکھلی…
Read Moreوزیر آغا ۔۔۔ درماندہ
درماندہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رس بھرا لمحہ نہ جانے کن کٹھن راہوں سے ہو کر آج میرے تن کے اس اندھے نگر میں ایک پل مہماں ہوا رس بھرا لمحہ سمے کی شاخ سے ٹوٹا مری پھیلی ہوئی جھولی میں گر کر آج میرا ہو گیا یک بیک قرنوں کے ٹھہرے کارواں نے جھرجھری لی چل پڑا رس بھرے لمحے کا محمل اونٹنی کی پشت پر مچلا سنہری گھنٹیوں نے چیخ کر مجھ سے کہا تو رہ گیا
Read More