اے مصور ترے شہکار کے پیچھے کیا ہے فن کے پیچھے چھپے فنکار کے پیچھے کیا ہے
Read MoreMonth: 2025 مارچ
اقبال کوثر
اقبال ساری عمر ہی جہلم میں کاٹ دی خوش حالیٔ معاش کو جاتے کہیں دبئی
Read Moreاقبال کوثر
تیراتے ہیں سب کے بیڑے پار لگاتے ہیں کچھ گہرے انسان سمندر جیسے ہوتے ہیں
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانی…
Read Moreشاہین عباس
گھر کہیں بھی نہیں ، کوئی بھی نہیں سب گلی کا گمان ہے سائیں
Read Moreمحسن اسرار
تیرے تعلقات پہ شک تو نہیں کوئی اندر سے توڑتے ہیں مگر واہمے مجھے
Read Moreمحسن اسرار
توڑے ہے کوئی پھول تو روندے کوئی سبزہ اک کھیل بنا رکھا ہے لوگوں نے چمن کو
Read Moreآفتاب اقبال شمیم ۔۔۔ گھر کو اتنا بھی نہیں تاریک رکھنا چاہئے
گھر کو اتنا بھی نہیں تاریک رکھنا چاہئے وا ذرا سا روزنِ تشکیک رکھنا چاہئے ہے اُسی کے بھید سے حاضر میں غائب کی نمود دُور کو ہر حال میں نزدیک رکھنا چاہئے در پئے آزار ہے سنجیدگی کا پیشہ ور پاس اپنے دشنۂ تضحیک رکھنا چاہئے پردۂ حیرت میں رہنا اُس کا منشا ہی سہی پر اُسے پردہ ذرا باریک رکھنا چاہئے خود بخود آ جائے گا کعبہ جبیں کی سیدھ میں بس ذرا اندر کا قبلہ ٹھیک رکھنا چاہئے
Read Moreامیر خسرو ۔۔۔ پہیلی
اندھا گونگا بہرہ بولے گونگا آپ کہائے ایک سفیدی بہوت انگارا گونگے سے بھڑ جائے جواب: ؟
Read Moreامیر خسرو ۔۔۔ گیت
کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے کاہے کو بیاہی بدیس بھائیوں کو دیے محلے دو محلے ہم کو دیا پردیس کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل! کاہے کو بیاہی بدیس ہم تو ہیں بابل تیرے کھونٹے کی گائیاں جد ہانکے ، ہنک جائیں ہم تو ہیں بابل تیرے بیلے کی کلیاں گھر گھر مانگی جائیں ہم تو ہیں بابل تیرے پنجرے کی چریاں بھور بھئے اڑ جائیں ٹاکوں بھری میں نے گڑیاں جو چھوڑیں چھوٹا سہیلی کا ساتھ کوٹھے تلے سے پالکی نکلی بیرن نے کھائے پشاد…
Read More