آفتاب اقبال شمیم ۔۔۔ زمیں کی کشت میں بو، آندھیوں میں پال مجھے

زمیں کی کشت میں بو، آندھیوں میں پال مجھے غلام گردشِ ایام سے نکال مجھے میں اپنے ظرف میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا چھلک رہا ہوں ، ذرا دے میری مثال مجھے جلا چراغ تو شب سائیں سائیں کرنے لگی ذرا سی موجِ طرب کر گئی نڈھال مجھے میں اپنی اصل کو دیکھوں تری نگاہوں سے مرے وجود سے باہر ذرا نکال مجھے میں پیش وقت ہوں مجرم ہوں اِس زمانے کا نئی سیاستیں شاید کریں بحال مجھے کسی کے ہارے ہوئے عزم کی ضمانت ہوں بنا رکھا ہے زمانے…

Read More

آفتاب اقبال شمیم ۔۔۔ مثالِ سیلِ بلا نہ ٹھہرے، ہوا نہ ٹھہرے

مثالِ سیلِ بلا نہ ٹھہرے، ہوا نہ ٹھہرے لگائے جائیں ہزار پہرے، ہوا نہ ٹھہرے کہیں کہیں دھوپ چھپ چھپا کر اُتر ہی آئی دبیز بادل ہوئے اکہرے، ہوا نہ ٹھہرے ورق جب اُلٹے، کتابِ موسم دکھائے کیا کیا گلاب عارض، بدن سنہرے، ہوا نہ ٹھہرے وہ سانس اُمڈی کہ وہ حسوں نے غضب میں آ کر گرا دئیے جس کے کٹہرے، ہوا نہ ٹھہرے کبھی بدن کے روئیں روئیں میں حواس ابھریں کبھی کرے گوشِ ہوش بہرے، ہوا نہ ٹھہرے اسی کی رفتارِ پا سے ابھریں نقوش رنگیں کہیں…

Read More

آفتاب اقبال شمیم ۔۔۔ گھر کو اتنا بھی نہیں تاریک رکھنا چاہئے

گھر کو اتنا بھی نہیں تاریک رکھنا چاہئے وا ذرا سا روزنِ تشکیک رکھنا چاہئے ہے اُسی کے بھید سے حاضر میں غائب کی نمود دُور کو ہر حال میں نزدیک رکھنا چاہئے در پئے آزار ہے سنجیدگی کا پیشہ ور پاس اپنے دشنۂ تضحیک رکھنا چاہئے پردۂ حیرت میں رہنا اُس کا منشا ہی سہی پر اُسے پردہ ذرا باریک رکھنا چاہئے خود بخود آ جائے گا کعبہ جبیں کی سیدھ میں بس ذرا اندر کا قبلہ ٹھیک رکھنا چاہئے

Read More

آفتاب اقبال شمیم ۔۔۔ پنجوں کے بل کھڑے ہوئے شب کی چٹان پر

پنجوں کے بل کھڑے ہوئے شب کی چٹان پر ناخن سے اک خراش لگا آسمان پر برسوں درونِ سینہ سلگنا ہے پھر ہمیں لگتا ہے قفلِ حبس ہوا کے مکان پر اک دھاڑ ہے کہ چاروں طرف سے سنائی دے گردابِ چشم بن گئیں آنکھیں مچان پر موجود بھی کہیں نہ کہیں التوا میں ہے جو ہے نشان پر وہ نہیں ہے نشان پر اس میں کمال اس کی خبر سازیوں کا ہے کھاتا ہوں میں فریب جو سچ کے گمان پر سرکش کو نصف عمر کا ہو لینے دیجئے…

Read More

آفتاب اقبال شمیم ۔۔۔ بھیجا ہے مے کدے سے کسی نے پیامِ غم

بھیجا ہے مے کدے سے کسی نے پیامِ غم آؤ کہ منتظر ہے کوئی ہم کلامِ غم لے جائے اب جہاں کہیں شبدیزِ زندگی تھامی ہوئی ہے ہاتھ میں ہم نے زمامِ غم یوں اپنے ظرف کا نہ تمسخر اُڑائیے سر پر اُنڈیلیے، یہ بچا ہے جو جامِ غم آئے گا ایک رقعۂ خالی جواب میں اُس کے بجائے بھیجئے نامہ بہ نامِ غم مفرورِ معتبر ہیں ، ملیں گے یہیں کہیں اپنے زیاں کے کھوج میں والا کرامِ غم سب کو بلائے عشرت ارزاں نے کھا لیا اب تو…

Read More

آفتاب اقبال شمیم ۔۔۔ مے گساری سے ذرا ربط زیادہ کر لو

مے گساری سے ذرا ربط زیادہ کر لو اور جینا ہے تو مرنے کا ارادہ کر لو وہ کہ ناخواندۂ جذبہ ہے نہیں پڑھ سکتا اپنی تحریر کو تم جتنا بھی سادہ کر لو ایسا سجدہ کہ زمیں تنگ نظر آنے لگے یہ جبیں اور، ذرا اور کشادہ کر لو امتحاں کمرۂ دنیا میں اگر دنیا ہے روز گردان کے فعلوں کا اعادہ کر لو پھر بتائیں گے تمہیں چشمۂ حیواں ہے کہاں گھر سے دفتر کا ذرا ختم یہ جادہ کر لو ٹالنے کی تمہیں ٹل جانے کی عادت…

Read More

آفتاب اقبال شمیم ۔۔۔ بات جو کہنے کو تھی سب سے ضروری رہ گئی

بات جو کہنے کو تھی سب سے ضروری رہ گئی کیا کیا جائے غزل پہ بھی ادھوری رہ گئی رزق سے بڑھ کر اُسے کچھ اور بھی درکار تھا کل وُہ طائر اُڑ گیا، پنجرے میں چُوری رہ گئی تھی بہت شفاف لیکن دن کی اُڑتی گرد میں شام تک یہ زندگی رنگت میں بھُوری رہ گئی کیوں چلے آئے کھلی آنکھوں کی وحشت کاٹنے اُس گلی میں نیند کیا پوری کی پوری رہ گئی؟ بس یہی حاصل ہوا ترمیم کی ترمیم سے حاصل و مقصود میں پہلی سی دوری…

Read More

آفتاب اقبال شمیم ۔۔۔ ہوں انا الصحرا کبھی پوچھو مجھے کیا چاہئے

ہوں انا الصحرا ک،بھی پوچھو مجھے کیا چاہیے آسماں جتنا بڑا پینے کو دریا چاہیے اتنا سنجیدہ نہ ہو، سب مسخرے لگنے لگیں زندگی کو نیم عریانی میں دیکھا چاہیے جانتا ہوں کیوں یہ آسانی مجھے مشکل لگے طے نہ کر پاؤں کہ کس قیمت پہ دنیا چاہیے یہ رہا سامانِ دنیا، یہ رہے اسبابِ جاں کوئی بتلاؤ مجھے ان کے عوض کیا چاہیے کچھ نہیں تو اُس کے تسکینِ تغافل کے لیے ایک دن اُس یارِ بے پروا سے ملنا چاہیے یا  زیاں کو سود سمجھو یا کہو سر…

Read More