بات جو کہنے کو تھی سب سے ضروری رہ گئی کیا کیا جائے غزل پہ بھی ادھوری رہ گئی رزق سے بڑھ کر اُسے کچھ اور بھی درکار تھا کل وُہ طائر اُڑ گیا، پنجرے میں چُوری رہ گئی تھی بہت شفاف لیکن دن کی اُڑتی گرد میں شام تک یہ زندگی رنگت میں بھُوری رہ گئی کیوں چلے آئے کھلی آنکھوں کی وحشت کاٹنے اُس گلی میں نیند کیا پوری کی پوری رہ گئی؟ بس یہی حاصل ہوا ترمیم کی ترمیم سے حاصل و مقصود میں پہلی سی دوری…
Read MoreTag: Aftab Iqbal shameem
آفتاب اقبال شمیم ۔۔۔ ہوں انا الصحرا کبھی پوچھو مجھے کیا چاہئے
ہوں انا الصحرا ک،بھی پوچھو مجھے کیا چاہیے آسماں جتنا بڑا پینے کو دریا چاہیے اتنا سنجیدہ نہ ہو، سب مسخرے لگنے لگیں زندگی کو نیم عریانی میں دیکھا چاہیے جانتا ہوں کیوں یہ آسانی مجھے مشکل لگے طے نہ کر پاؤں کہ کس قیمت پہ دنیا چاہیے یہ رہا سامانِ دنیا، یہ رہے اسبابِ جاں کوئی بتلاؤ مجھے ان کے عوض کیا چاہیے کچھ نہیں تو اُس کے تسکینِ تغافل کے لیے ایک دن اُس یارِ بے پروا سے ملنا چاہیے یا زیاں کو سود سمجھو یا کہو سر…
Read Moreالمحدود ۔۔۔ آفتاب اقبال شمیم
المحدود ۔۔۔ درختوں سے پرانے چہچہے رخصت ہوئے باد آزما پتے فشارِ دم کی قلت سے بدن میں چڑمڑا کر، خاک پر خاشاک کی صورت پڑے ہیں یاد کے اس موسمِ افسوس میں ہر شاخ کا چہرہ غمِ ہجراں کی پرچھائیں سے سنولایا ہوا ہے خیر ہو، یہ ہجر و ہجرت نسل بعدِ نسل جاری ہے خزاں کی خیر ہوجس کا یہ کیلنڈر ابھی جینے کی تاریخوں سے خالی ہے شنید و دید کا مارا ہوا ہوں کس طرح دیکھوں وہ آوازیں جو بھیتر میں بپا ہیں ان درختوں کے…
Read More