کچھ اعتبار کسی طرح کا نہیں باقی یقیں کرتا ہوں جس کا ، گماں نکلتا ہے
Read MoreMonth: 2025 مئی
ظفر اقبال
آخر کو اس غبار نے غائب کیا ہمیں کس کاروبارِ خاک پہ اپنا اجارہ ہے
Read Moreظفر اقبال
کچھ ایسے ٹوٹنا ہے اس دفعہ تو کہ جیسے کوئی وعدہ ٹوٹتا ہے
Read Moreظفر اقبال
اک فاصلہ رہتا ہے ، پانی سے روانی تک دریائے ہوس میں بھی ، اک موج وفا کی ہے
Read Moreظفر اقبال
میرے حصے کی ملاوٹ یہی کیا کم ہے کہ میں شور میں شعر ملانے کے لئے زندہ ہوں
Read Moreظفر اقبال
شہر سارا ہی مرے گھر سے ترے گھر تک ہے ایک دیوار نہیں ہے جسے میں ڈھا سکتا
Read Moreظفر اقبال
ایسی ویسی کوئی امید نہ رکھنا مجھ سے میں ترے ساتھ بہت دور نہیں جاسکتا
Read Moreظفر اقبال
محبت واجبی اچھی ہے ، اے دل! اسے اعصاب پہ طاری نہ کرنا
Read Moreظفر اقبال
ممکن ہے صد ہزار سُخن اس کی بزم میں کرنے اور بات نہ کرنے کے درمیاں
Read Moreظفر اقبال
خوش اخلاق تھا ، اس نے انکار بھی کیا ہے ، ظفر ، مسکراتے ہوئے
Read More