نبیل احمد نبیل ۔۔۔ دُھندلے دُھندلے سے ہیں کیوں شمس و قمر کون کہے

دُھندلے دُھندلے سے ہیں کیوں شمس و قمر کون کہے
کس نے پامال کیا حُسنِ سحر کون کہے

کون سمجھے گا یہاں دل کے دھڑکنے کی صدا
اُن سے احوالِ جگر ، دیدئہ تر کون کہے

کون ایسا ہے جو دریا کی تہوں میں اُترے
سیپ سے کس نے نکالے ہیں گہر کون کہے

کس نے رکھے ہیں در و بام ، دریچے اُلٹے
کس نے عجلت میں بنایا ہے یہ گھر کون کہے

دیکھ سکتا ہے یہاں کون کسی کی جانب
کون اس شہر میں ہے اہلِ نظر کون کہے

کس نے جھیلا ہے رہِ شوق کی بے تابی کو
تلخ ہے منزلِ ہستی کا سفر کون کہے

کون رہتا ہے پشمان مرے سینے میں
کون چلّاتا ہے یہ شام و سحر کون کہے

کون بتلائے ضمیروں کی کسک کیسی ہوئی
کیسے دستار سے خالی ہوئے سر کون کہے

بھاگتے بھاگتے اِک عمر ہوئی رستوں پر
اور ہے کتنا بھلا رنجِ سفر کون کہے
ہاتھ خالی ہیں ہر اک شخص کا دامن خالی
کس نے پایا یہاں محنت کا ثمر کون کہے

کس لیے لوگ ہیں اِس شہر میں سہمے سہمے
ہر طرف پھیلا ہے کیا خوف و خطر کون کہے

کس نے ندّی کو بہایا ہے کنویں کی جانب
دُھوپ میں کس نے جلائے ہیں شجر کون کہے

گرد آلود ہُوا شہرِ سخن کس کے سبب
کیا ہُوئے صاحبِ فن ، اہلِ نظر کون کہے

کون اِس عہد ستم گار میں لب کھولے نبیل
زندگی کیسے کریں لوگ بسر کون کہے

Related posts

Leave a Comment