سیّد ریاض حسین زیدی ۔۔۔ قلب و جاں پر کوئی زوال نہ ہو

قلب و جاں پر کوئی زوال نہ ہو
اے خدا گھر یہ پائمال نہ ہو

زندہ رہنا ہے دوریوں میں بھی
مر نہ جائیں اگر وصال نہ ہو

ہے یہ اچھا کہ خود پہ کھل جائیں
غمِ دنیا کا احتمال نہ ہو

ہے تمنا خود آگہی سے جئیں
سر نگوں ہو کے کچھ سوال نہ ہو

عہدِ ماضی کہ حال مستقبل
بے اماں کوئی ماہ و سال نہ ہو

چشمِ حیراں ہو چار سو نگراں
زخم وہ جس کا اندمال نہ ہو

آن قائم رہے بہر صورت
جان جائے تو کچھ ملال نہ ہو

Related posts

Leave a Comment