قلب و جاں پر کوئی زوال نہ ہو اے خدا گھر یہ پائمال نہ ہو زندہ رہنا ہے دوریوں میں بھی مر نہ جائیں اگر وصال نہ ہو ہے یہ اچھا کہ خود پہ کھل جائیں غمِ دنیا کا احتمال نہ ہو ہے تمنا خود آگہی سے جئیں سر نگوں ہو کے کچھ سوال نہ ہو عہدِ ماضی کہ حال مستقبل بے اماں کوئی ماہ و سال نہ ہو چشمِ حیراں ہو چار سو نگراں زخم وہ جس کا اندمال نہ ہو آن قائم رہے بہر صورت جان جائے تو…
Read MoreTag: Syed Riaz Hussain Zaidi's ghazal
نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی
فکروعمل کے حسن کا سامان کر دیا عزت مآب آپؐ نے انسان کر دیا یہ معجزہ آپؐ نے دشت وجود کو خوشبو سے مالا مال گلستان کر دیا اوہام کی فضا سے بشر کو نکال کر صدق و صفا کا مرکزی عنوان کر دیا غیر خدا کے آگے نہ سر کو جھکائیے واضح ترین آپؐ نے اعلان کر دیا عصیاں شعار چشمِ زدن میں تھے منقلب خود کردنی پہ ان کو پشیمان کر دیا خلقِ عظیم آپؐ کا رشک آفرین ہے کافر کو جس نے صاحب ایمان کر دیا راہیں…
Read Moreسید ریاض حسین زیدی ۔۔۔ گلوں کی خندہ لبی سے ملی ہے آسائش
گلوں کی خندہ لبی سے ملی ہے آسائش عروج پر ہے بہارِ چمن کی آرائش سہانی یاد سے دل میں مہک سی اٹھتی ہے نفس نفس میں بہاراں ہوئی ہے زیبائش طلب کریں بھی کوئی مشورہ تو خود سے کریں جہاں میں ایک یہی معتبر ہے فہمائش یہ سوئے ظن،یہ بد اندیش وسوسے توبہ خدا کرے،رہے،یہ دور ہم سے آلائش رکیں تو وسعتِ صحرا بھی بڑھتی جاتی ہے بڑھیں تو خاک ہماری نظر میں آسائش ہزار موسموں کے پیچ و خم سے گزری ہے فروغِ دیدۂ و دل پھر بنی…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی
نعتؐ ۔۔۔۔۔ مثالی ہے نمونہ خیر و برکت کی نہایت کا بنایا ہے خُدا نے آپؐ کو منبع ہدایت کا حضورؐ آئے ، ہوا سِکہ رواں توحید کا ہر سُو ہوا پھر خاتمہ غیرِ خُدا کی ہر حکایت کا رضائے ربِّ اعلیٰ کی ہوئی تعمیل ہر صورت نہیں آیا زباں پر حرف شکوے اور شکایت کا مٹایا ایک اک کرکے نشانِ بے اماں یکسر بداندیشی، غلط کاری کی ہر بے جا روایت کا صحابہ سیر چشم و بے نیازِ حُبِّ دُنیا ہیں اُنھیں کافی اشارہ ہے فقط چشمِ عنایت کا…
Read More