رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں
ہم خود میں اذیت کا ہنر ڈھونڈ رہے ہیں
کل تک تھا جنھیں آبلہ پائی پہ بہت ناز
وہ لوگ بھی صحرا میں شجر ڈھونڈ رہے ہیں
ہر سمت محبت کے گلابوں کی مہک ہو
آشائوں کا اک ایسا نگر ڈھونڈ رہے ہیں
دیوار تو دونوں نے ہی مل کر تھی اٹھائی
اب دونوں ہی دیوار میں در ڈھونڈ رہے ہیں
تا عمر جفائوں کے جو بوتے رہے کانٹے
وہ اپنی وفائوں کا ثمر ڈھونڈ رہے ہیں
ہر کوچہ و بازار میں غربت کے تماشے
زردار مرے دیس میں زر ڈھونڈ رہے ہیں
اشفاق بہت ڈوبنے کو دل ہے یہ بے تاب
آنکھوں کے سمندر میں بھنور ڈھونڈ رہے ہیں
