مستحسن جامی ۔۔۔ تم نے دیکھا ہے جسے وہ مری پرچھائی ہے

تم نے دیکھا ہے جسے وہ مری پرچھائی ہے
اس سے بڑھ کر کوئی وحدت ہے نہ سچائی ہے

اس لیے خال زمانے سے جدا ہیں میرے
ان کو کیا علم کہ مٹی مری صحرائی ہے

پہلے سرسبز بہاروں کے یہاں پھیرے تھے
اب وہی حجرہ ہے اور چاروں طرف کائی ہے

ایک مصرعے نے بدل ڈالی ہے رنگت اْس کی
وہ جو کہتا تھا غزل قافیہ پیمائی ہے

کوچۂ قلب میں آ جاؤ کسی روز اگر
کوئی گہرائی ہے اس سمت، نہ اونچائی ہے

پوچھتے کیا ہو مری عمرِ رواں کا قصہ
میں ہوں اور برسوں پہ پھیلی ہوئی تنہائی ہے

شعر کے ساتھ کسی طور نہیں ہیں مخلص
جن کا مقصود ہی دْنیا میں پزیرائی ہے

Related posts

Leave a Comment