کڑی سی دھوپ میں تو، دل مرا گھبرا گیا ہے
مرے آنچل کا سایا میرے من کو بھا گیا ہے
ترے لہجے کے خنجر نے، مرا دل چیر ڈالا
یہی اک روگ ہائے! میرے دل کو کھا گیا ہے
نجانے کیا تھا اس کے دل میں جو بولا نہیں پر
وہ باتیں کرتے کرتے ایک دم شرما گیا ہے
سلامی دے رہے ہیں پھول پودے آج گل کو
کوئی نقشہ بہاروں کا، انہیں دکھلا گیا ہے
