ڈاکٹر عزیز فیصل ۔۔۔ بھنور سے کہہ دو کہ دریا مرا محافظ ہے

بھنور سے کہہ دو کہ دریا مرا محافظ ہے
میں ریگ زاد ہوں، صحرا مرا محافظ ہے

اسے عدو کے عزائم میں کیا بتاؤں بھلا
اسے خبر ہے وہ کتنا مرا محافظ ہے

گزند کیسے اٹھاوں میں اس کے ہاتھوں سے
یہ عشق سارے کا سارا مرا محافظ ہے

جو دوسروں سے میں عزت سے پیش آتا ہوں
یہ رنگ ڈھنگ، یہ جذبہ مرا محافظ ہے

ہوں جس سے حالتِ جنگ وجدال میں فیصل
حقیقتاً وہی خفیہ مرا محافظ ہے

Related posts

Leave a Comment