اس لیے بھی میرے ماتھے پر شکن کوئی نہیں
صبر کرنے کے علاوہ آپشن کوئی نہیں
اس کے اترن بھی مکمل جسم ہیں اپنی جگہ
ان بھری الماریوں میں پیرہن کوئی نہیں
خواب کی آسائشوں نے کر دیا غافل ہمیں
پتھروں پر سو رہے ہیں اور چبھن کوئی نہیں
ہر کسی کے واسطے محبوب کا نعم البدل
سچ کہوں تو چاند جیسا بدچلن کوئی نہیں
واپسی پر شاخ بھی ہوتی نہیں اپنی جگہ
ہم پرندوں سے زیادہ بے وطن کوئی نہیں
