ہوش دن رات ڈھونڈتا تھا میں
اتنا مدہوش ہو گیا تھا میں
دائروں میں چراغ جلتے تھے
اور محور پہ جل رہا تھا میں
سبز ہونے میں وقت لگتا ہے
زرد شاخوں پہ کھل رہا تھا میں
لے کے دھاگے کئی مزاروں سے
ایک دوجے سے باندھتا تھا میں
میرے سینے پہ نقش ابھرتے رہے
اک زمانے میں راستہ تھا میں
لوگ سمجھے کہ کھو گیا ہوں کہیں
پسِ منظر چھپا ہوا تھا میں
