ہوش دن رات ڈھونڈتا تھا میں اتنا مدہوش ہو گیا تھا میں دائروں میں چراغ جلتے تھے اور محور پہ جل رہا تھا میں سبز ہونے میں وقت لگتا ہے زرد شاخوں پہ کھل رہا تھا میں لے کے دھاگے کئی مزاروں سے ایک دوجے سے باندھتا تھا میں میرے سینے پہ نقش ابھرتے رہے اک زمانے میں راستہ تھا میں لوگ سمجھے کہ کھو گیا ہوں کہیں پسِ منظر چھپا ہوا تھا میں
Read MoreTag: Mansoor Faiz
منصورحسین فائز … زمین چلنے لگی آسمان چلنے لگا
زمین چلنے لگی آسمان چلنے لگا قدم اٹھائے تو سارا جہان چلنے لگا کسی خیال کا سایہ تھا یا کوئی بادل سفر میں ساتھ مرے نگہبان لگا تلاشِ حق میں چلے تھے تو ہم سفر ہوکر قدم قدم پہ کوئی مہربان چلنے لگا بھنور کی گود سے کشتی اچھل کے چلنے لگی ہوا نے ساتھ دیا بادبان چلنے لگا الجھ رہا ہوں میں ہونے میں یا نہ ہونے میں یقین رکنے لگا تو گمان چلنے لگا اندھیری رات کی آغوش کا اثر دیکھا کسی کی یاد کے سائے میں دھیان…
Read More