سرور فرحان ۔۔۔ بظاہر تو اجالے بانٹتے ہیں وہ زمانے میں

بظاہر تو اجالے بانٹتے ہیں وہ زمانے میں
مگر مخلص نہیں اندر کی تاریکی مٹانے میں

چلو اے زندگی! جائو ملیں گے پھر کہیں دونوں
مجھے کچھ وقت لگ جائے گا خود کو آزمانے میں

میں کب کا بِک چکا یارو! عوض میں اک تبسم کے
عبث مصروف ہو اب تم مری قیمت لگانے میں

جو کہتا تھا کبھی یک جان دو قالب ہیں ہم دونوں
وہ اب مصروف ہے کیوں درمیاں دیوار اُٹھانے میں

اگر اتنے میں مل جائے دلِ ناشاد کو فرحت
تجھے زحمت ہے کیا اے جاں! ذرا سا مسکرانے میں

میں چاہوں وہ اُجالے بانٹ دے میری شبِ غم میں
بضد ہے وہ مگر شمعِ محبت کو بجھانے میں

خفا ہر بات پر ہونے کی عادت پڑ گئی اُس کو
مجھے بھی لطف سا آنے لگا اس کو منانے میں

اکیلا رہ گیا ہوں وقت کے ہاتھوں میں اے فرحان!
بہت ہی دیر کر دی ہے کسی نے لوٹ آنے میں

Related posts

Leave a Comment