صفی لکھنوی

وہ بزم دیکھیے طرب افزا کہیں جسے
ٹوٹا ہے دل ہی سازِ تمنا کہیں جسے
یہ دل ہو خونِ شرحِ تمنا کہیں جسے
ٹپکے وہ قطرہ آنکھ سے دریا کہیں جسے

Related posts

Leave a Comment