آشفتہ چنگیزی

ہمیں خبر تھی زباں کھولتے ہی کیا ہو گا کہاں کہاں مگر آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لیتے

Read More

معین ناصر ۔۔۔ تھا کوئی خوف، لیکن واہموں جیسا

تھا کوئی خوف، لیکن واہموں جیسا وہ حال اپنا برستے بادلوں جیسا کوئی بھی اس مکاں میں اب نہیں رہتا زمیں پر کیا ہوا ہے حادثوں جیسا بکھرنے جو نہیں دیتا مجھے، ایسا ہے کیا ماں کی دعا میں حوصلوں جیسا وہی ہیں خون کے رشتے،وہی گھر ہے مگر ہے درمیاں کچھ فاصلوں جیسا کہانی میں سفر کی درج ہے ناصر سڑک پر کچھ پڑا تھا آبلوں جیسا

Read More

مرزا جعفر علی خاں اثر لکھنوی

ہم نے رو رو کے رات کاٹی ہے آنسوئوں پر یہ رنگ تب آیا

Read More

مبشر سعید ۔۔۔۔ شاخ پہ رنج نمودار نہیں ہو سکتا

کسی منظر نہ کسی جسم کی عریانی سے آنکھ حیران ہے خوابوں کی فراوانی سے جس طرح پیاس میں پانی کا میسر آنا میں تمھیں دیکھ رہا ہوں اُسی حیرانی سے آگ اور تیز ہوا دل کو لُبھاتے ہیں مگر گہے مٹی سے میں ڈرتا ہوں گہے پانی سے باغ میں وقت بِتانے سے یہ ہوتا ہے کہ دل جھومنے لگتا ہے نغموں کی فراوانی سے جہاں رہتے ہیں مرے جان سے پیارے مرشد پیار کرتا ہوں اُسی خطہِ بارانی سے بات دنیا کو عقیدت سے بتاؤ کہ سعید چین…

Read More

ڈاکٹر عابد سیال ۔۔۔ رُکو، وہم و شبہات کا وقت ہے

رُکو، وہم و شبہات کا وقت ہے کہاں جائو گے، رات کا وقت ہے کسی بھاری پتھر تلے دے کے دل یہ تخفیفِ جذبات کا وقت ہے بدلنے پہ اس کے نہ یوں رنج کر یہ معمولی اوقات کا وقت ہے یہ کیا دل میں ریزہ رڑَکنے لگا ابھی تو شروعات کا وقت ہے گلے خشک، پیشانیاں تر بتر عمل کے مکافات کا وقت ہے

Read More

احسان شاہ …. کبھی تو یوں مرے دل کو دماغ، مشورہ دے

کبھی تو یوں مرے دل کو دماغ، مشورہ دے کسی عقاب کو گویا کہ زاغ ،مشورہ دے مرے علاوہ نہیں ہے کوئی یہاں جو مجھے زمیں کو دشت بنائوں کہ باغ ،مشورہ دے مرے ندیم! میں مفلوج ہونے والا ہوں ملے فراغ سے کیسے فراغ ،مشورہ دے امیرِ لشکرِ مغلوب! اب کہاں جائیں مٹائیں خود کو یا رہنے دیں داغ،مشورہ دے علیمِ وقت! نہیں ہے تمیزِ لیل و نہار میں کب جلائوں بجھائوں چراغ ،مشورہ دے

Read More

میاں داد خاں سیاح

شاید انھیں بہ طرزِ فسانہ کوئی سنائے کہتے ہیں اپنا حال ہر اک قصہ خواں سے ہم

Read More

بانی ۔۔۔ جو زہر ہے مرے اندر وہ دیکھنا چاہوں

جو زہر ہے مرے اندر وہ دیکھنا چاہوں عجب نہیں میں ترا بھی کبھی برا چاہوں میں اپنے پیچھے عجب گرد چھوڑ آیا ہوں مجھے بھی رہ نہ ملے گی جو لوٹنا چاہوں وہ اک اشارۂ زیریں ہزار خوب سہی میں اب صدا کے صِلے میں کوئی صدا چاہوں مرے حروف کے آئینے میں نہ دیکھ مجھے میںٕ اپنی بات کا مفہوم دوسرا چاہوں ق کھُلی ہے دل پہ کچھ اس طرح غم کی بے سببی تری خبر نہ کچھ اپنا ہی اب پتا چاہوں کوئی پہاڑ، نہ دریا، نہ…

Read More

معین ناصر ۔۔۔ زندگی بھر خزاؤں میں رہنا

زندگی بھر خزاؤں میں رہنا کس لیے بے وفاؤں میں رہنا جا رہا ہوں ترے نگر سے، مجھے اب نہیں ان خداؤں میں رہنا مار ڈالے گی غم کی ارزانی کم کرو انتہاؤں میں رہنا یہ غزل آخری سمجھ کے سنو اور سیکھو بلاؤں میں رہنا اچھا لگتا ہے، ہر گھڑی ناصر یوں کسی کی دعاؤں میں رہنا

Read More

مبشر سعید ۔۔۔ برائے نقشِ منور شریک ہوتا ہے

برائے نقشِ منور شریک ہوتا ہے سُخن میں سوچ کا جوہر شریک ہوتا ہے نبیﷺ کا ذکر وہ ذکرِ عظیم ہے جس میں مرا خدا بھی برابر شریک ہوتا ہے خمار خانہِ دنیا فضول ہے، صاحب! تو اس فریب میں کیوں کر شریک ہوتا ہے؟ اُسے خیال ہے یعنی تمام باتوں کا خوشی غمی میں جو اکثر شریک ہوتا ہے قضا کے ساتھ ہمیشہ مکالمے میں سعید جو سر پھرا ہو وہ بہتر شریک ہوتا ہے

Read More