مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط میری شکایتوں سے بھرا ہے تمام خط گھبرا نہ اس قدر دلِ بے تاب صبر کر آتا ہے کوئی روز میں اب صبح و شام خط لکھا ہوا ہے خاص تمہارے ہی ہاتھ کا پہچانتا ہے خوب تمہارا غلام خط تحریر ان کی سینہ پہ رکھ دیجیو مرے بدلے جواب نامہ کے آئے گا کام خط لکھا ہے اب نہ لکھیں گے ہم کوئی خط تجھے خط آیا میری موت کا لایا پیام خط ضائع نہ جائے گی تری محنت کسی…
Read More