راز الہ آبادی … آشیاں جل گیا، گلستاں لٹ گیا، ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گے

آشیاں جل گیا، گلستاں لٹ گیا، ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گے اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے اور کچھ دن یہ دستور مے خانہ ہے، تشنہ کامی کے یہ دن گزر جائیں گے میرے ساقی کو نظریں اٹھانے تو دو، جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے اے نسیم سحر تجھ کو ان کی قسم، ان سے جا کر نہ کہنا مرا حال غم اپنے مٹنے کا غم تو نہیں ہے مگر، ڈر یہ ہے ان کے گیسو…

Read More