جنّت میں بھی مِلے گا ثمر اِس زمین کا لے جائیں گے وہاں بھی شجر اِس زمین کا ہو گا جدھر کو جلوۂ عکسِ جمالِ یار منہ پھیر دیں گے ہم بھی اُدھر اِس زمین کا سمجھے تھے سیرِ باغِ جناں کی طرح مگر مہنگا پڑا ہمیں تو سفر اِس زمین کا نقشِ قدم پڑے ہیں مِرے جب سے عرش پر ہونے لگا فلک سے گذر اِس زمین کا
Read MoreTag: Khawar Ijaz
خاور اعجاز ۔۔۔ جو ہے کارِ جہاں وہ حسبِ وعدہ کر لِیا جائے
جو ہے کارِ جہاں وہ حسبِ وعدہ کر لِیا جائے پھر اُس کے بعد چلنے کا ارادہ کر لِیا جائے کہیں ہو گی دلِ نامہرباں تیری تسلی بھی ؟ ہوس کا دائرہ کتنا زیادہ کر لِیا جائے ؟ کسی رنگیں طبیعت سے جو دل کی بات کہنی ہے سو اپنا ترجماں اِک حرفِ سادہ کر لِیا جائے ستاروں کی ضرورت پڑ گئی تاریکیٔ شب میں تو اپنے آنسوئوں سے استفادہ کر لِیا جائے حضوری کی گھڑی ہے ، خاکساروں سے ذرا کہنا لحد کی خاک کو اپنا لبادہ کر لِیا…
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ ہائی کو تراجم
The ants are walking under the ground And the pigeons are flying over the steeple And in between are the people (Elizebeth Madox Roberts) چیونٹیاں چل رہی ہیں زیرِ زمیں اور کبوتر فضائوں میں رقصاں درمیاں اِک ہجوم لوگوں کا ………………… Dusk A lone car going the same way As the river (George Swede) شام کے سرمئی دھندلکے میں ایک ہی سمت میں رواں دونوں بیل گاڑی بھی اور دریا بھی Leaf in my palm its stem extends My life line (Helen Daive) ایک پتّا مِری ہتھیلی پر اس کی…
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ وقت آگیا ہے
زمانے! مِرے لفظ جگنو بنیں اور گلِ گفتگو جب کھِلے اُس پہ تتلی جھُکے میرے ہونٹوں پہ خوشبو رہے میرے آنسو ستاروں کی مانند چمکیں مِرے دِل کے دریا کنارے پرندے نہائیں تِرے گیت گائیں گلابی اُفق پر گذرتی ہُوئی شام ہلکے سلیٹی لبادے میں ملبوس بادل کے ہمراہ پکنک پہ نِکلی ہُوئی ہے سمندر کنارے پہ اِک سرخ چھتری تلے زِندگی نیم عریاں پڑی ہے خمیدہ کمر والے بوڑھے کی برفاب آنکھوں میں جلتی ہُوئی آگ چھتری کے نیچے پڑی لاش کو اپنی خواہش کے تابوت میں رکھ رہی…
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ واپسی
واپسی۔۔۔۔۔زمانے!مِرے ریگزارِ تمنّامیںاِک گنبدِ خواب کے پاسکچھ پھُول رکھّے ہیںاور دو کٹورے ہیں آنکھوں کےجن میں مِرے آنسوئوں کی نمی ہےمِرے گیت ہونٹوں سے گِر کراِسی ریت میں ریت ہو کر پڑے ہیںبچھڑ جانے والوں کی یادیں ہی زندہ ہیںچہرے نہ جانے کہاں کھو گئے ہیںسلگتی ہُوئی نیند باقی ہےآنکھیں نہ جانے کہاں کھو گئی ہیںتھکن جسم کی قبر میں سو گئی ہےاُداسی مِری ہم سفر ہو گئی ہےزمانے!مِرے آخری رقص کا وقت ہےوحشتِ شوق صندل کی مانند جلنے لگی ہےرگ و پے میںاَن دیکھی دُنیا کی خواہش مچلنے لگی…
Read More