اُجالوں کی نمایش ہو رہی ہے اندھیروں سے بھی سازش ہو رہی ہے
Read MoreTag: Shair
اختر عالم
ہر اک مقام پہ اچھی نہیں ہے با خبری کہیں کہیں تو ضروری ہے بے خبر ہونا
Read Moreروحی کنجاہی
ہر ایک غم ہے تر و تازہ پہلے دن کی طرح امانتیں کوئی یوں بھی سنبھال کے دیکھے
Read Moreحفیظ جونپوری
میری اک بات میں ہیں سو پہلو اور سب کا جدا جدا مطلب
Read Moreرند
کیا مِلا عرضِ مدعا کر کے بات بھی کھوئی التجا کر کے
Read Moreاحمد فراز
ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فراز رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
Read Moreخاطر غزنوی
جب اُس زُلف کی بات چلی ڈھلتے ڈھلتے رات ڈھلی
Read Moreمحسن احسان
تھی جن کی لَو سے دیار سخن میں تابانی وہ طاق طاق چراغِ ہنر پرانے تھے
Read Moreاکبر الہ آبادی
حسن کے باب میں اکبر کی سند ٹھیک نہیں یہ تو ہر اک بتِ کم سِن کو پری کہتے ہیں
Read Moreخالد احمد
ہم نے اس سال بھی جی بھر کے نہ دیکھا تجھ کو خالد اس سال بھی ہم نے وہی نادانی کی
Read More